برائی کا مسئلہ: اگر اللہ ہے تو دکھ کیوں ہے؟
اگر اللہ قادر اور رحیم ہے تو پھر دنیا میں دکھ، ظلم اور تکلیف کیوں ہے؟ اسلام کا سچا، گہرا اور سادہ نہ کیا جانے والا جواب۔
برائی کا مسئلہ: اگر اللہ ہے تو دکھ کیوں ہے؟
یہ سوال سنتے ہی آنکھوں میں تصویریں آتی ہیں:
ایک ماں جو اپنے بچے کو کینسر سے مرتے دیکھتی ہے۔ ایک معصوم انسان جو کسی اور کے ظلم کا شکار ہوتا ہے۔ زلزلے جو سینکڑوں لوگوں کو لمحوں میں ملبے تلے دبا دیتے ہیں۔
اگر اللہ موجود ہے، اگر وہ قادر ہے، اگر وہ رحیم ہے — تو یہ سب کیوں؟
یہ سوال ایمانداری سے پوچھا گیا ہے۔ اور اس کا جواب بھی ایمانداری سے دینا ضروری ہے — نہ کوئی سرسری جواب، نہ کوئی سطحی تسلی۔
سوال کی ساخت
پہلے سوال کی ساخت سمجھنا ضروری ہے۔ فلسفی Epicurus نے تین ہزار سال پہلے کہا:
- اللہ برائی روکنا چاہتا ہے لیکن نہیں روک سکتا → تو قادر نہیں
- اللہ روک سکتا ہے لیکن نہیں روکتا → تو رحیم نہیں
- نہ چاہتا ہے نہ روک سکتا → تو پھر اللہ ہی نہیں
یہ ایک پرانا لیکن مضبوط استدلال ہے۔ اسلام اسے سرسری نہیں لیتا — بلکہ کئی زاویوں سے جواب دیتا ہے۔
پہلا جواب: دنیا آزمائشگاہ ہے
قرآن میں اللہ نے واضح کیا:
"الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا"
"جس نے موت اور زندگی بنائی تاکہ آزمائے کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔"
اور:
"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ"
"اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے۔"
اسلام کا نقطہ نظر ہے: دنیا جنت نہیں ہے — یہ ایک آزمائشگاہ ہے۔ اگر دنیا جنت ہوتی — بغیر تکلیف کے، بغیر امتحان کے — تو پھر آخرت کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔
دوسرا جواب: انسانی اختیار
بہت سی برائیاں انسانی ہیں — جنگیں، ظلم، ناانصافی، جرائم۔ یہ اللہ کا کام نہیں بلکہ انسانی اختیار کا نتیجہ ہے۔
اللہ نے انسان کو اختیار دیا۔ یہ سوال اٹھتا ہے: اللہ نے اختیار کیوں دیا؟
کیونکہ اختیار کے بغیر محبت ممکن نہیں۔ ایک روبوٹ جسے اللہ کی عبادت پر پروگرام کیا گیا ہو — اس کی عبادت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لیکن ایک انسان جو اختیار کے باوجود اللہ کو چنے — اس کا انتخاب حقیقی اور قیمتی ہے۔
اختیار کی قیمت یہ ہے کہ لوگ اسے غلط بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انسانی ظلم اللہ کی کمزوری نہیں — یہ انسانی آزادی کا سایہ ہے۔
تیسرا جواب: محدود نقطہ نظر
قرآن میں موسیٰ اور خضر کا قصہ (سورۃ الکہف) اس اصول کو بیان کرتا ہے: ہم صرف ایک لمحے کو دیکھتے ہیں، پوری تصویر نہیں۔
جب ایک درخت کاٹا جاتا ہے تو ایک وقت کے لیے زمین خالی لگتی ہے — لیکن وقت گزرنے پر وہاں نیا جنگل اگتا ہے۔ ہم جو تکلیف دیکھتے ہیں وہ ایک چھوٹے لمحے کی تصویر ہے — ہم پوری کہانی نہیں دیکھتے۔
چوتھا جواب: تکلیف اور معنی
نفسیاتی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف دیکھی وہ اکثر سب سے گہرے اور معنی خیز انسان بھی نکلے۔ Viktor Frankl جو ہولوکاسٹ میں بچے، انہوں نے لکھا:
"جو شخص اپنی تکلیف میں معنی پاتا ہے وہ ہر حال میں جی سکتا ہے۔"
اسلام یہ نہیں کہتا کہ تکلیف اچھی چیز ہے — بلکہ یہ کہتا ہے کہ تکلیف میں بھی اللہ کا ہاتھ ہے اور اس میں بھی کچھ ملتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "مومن کا معاملہ تعجب انگیز ہے — اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے خیر ہے — اگر تکلیف ملتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔"
پانچواں جواب: آخرت میں حساب
اسلام کا ایک مرکزی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی ظلم بلا جواب نہیں رہے گا۔
جو ظالم اس دنیا میں چھوٹ گیا — آخرت میں چھوٹے گا نہیں۔ جو مظلوم اس دنیا میں انصاف نہیں پایا — آخرت میں پائے گا۔
اگر یہ دنیا سب کچھ ہے — اگر کوئی آخرت نہیں — تو پھر واقعی ظلم کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اگر آخرت ہے تو پھر دنیا کا ظلم ایک مکمل تصویر کا ادھورا حصہ ہے۔
کیا یہ جواب کافی ہے؟
دیانتداری سے کہنا پڑتا ہے: نہیں، یہ جوابات ایک ماں کا دل پوری طرح نہیں بھرتے جو اپنا بچہ کھو چکی ہو۔
اور اسلام یہ تسلیم کرتا ہے۔
قرآن میں آتا ہے کہ نبی ابراہیم نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم پایا — وہ تکلیف کیسی ہوگی؟ نبی یعقوب نے بیٹے کی جدائی میں آنسو بہائے حتی کہ آنکھیں سفید ہو گئیں۔ نبی محمد ﷺ نے اپنے بچوں کو مرتے دیکھا اور رویا۔
اسلام درد کو نہیں مٹاتا — وہ درد میں ساتھ دیتا ہے۔
فلسفیانہ جواب دل کو مطمئن نہیں کرتا — لیکن اللہ کا قرب کر سکتا ہے۔ اور شاید یہی وہ راستہ ہے جو تکلیف میں انسان کو اللہ کی طرف لے جاتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
- آپ کی زندگی میں کوئی ایسی تکلیف آئی جس میں بعد میں کوئی خیر نظر آئی؟
- انسانی ظلم کو خدا کی طرف منسوب کرنا — کیا یہ درست ہے؟
- اگر آخرت نہ ہو تو برائی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
- تکلیف میں صبر کرنا — کیا یہ کمزوری ہے یا طاقت؟
- کیا کوئی فلسفیانہ جواب آپ کو دکھ میں تسلی دے سکتا ہے، یا اس سے آگے کچھ اور چاہیے؟
faq
فلسفے میں 'برائی کے مسئلے' سے کیا مراد ہے؟
یہ Epicurus کا قدیم استدلال ہے: اگر خدا قادر مطلق ہے تو برائی روک سکتا ہے؛ اگر نہیں روکتا تو یا تو قادر نہیں یا رحیم نہیں۔ یہ ایک گہرا فلسفیانہ چیلنج ہے جسے ہر مذہب کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسلامی جواب کیا ہے؟
اسلام کا جواب کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے: دنیا آزمائشگاہ ہے، تکلیف میں حکمت ہو سکتی ہے، انسانی اختیار کے نتائج ہوتے ہیں، اور آخرت میں حساب ہوگا — کوئی ظلم بلا جواب نہ رہے گا۔
کیا اسلام کہتا ہے کہ تکلیف اللہ کی سزا ہے؟
نہیں — یہ ایک غلط فہمی ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ نبی بھی تکلیف اٹھاتے تھے، بچے بھی تکلیف میں ہوتے ہیں — اور تکلیف اکثر آزمائش، پاکیزگی یا کسی اور حکمت کا ذریعہ ہوتی ہے، سزا نہیں۔
انسانی آزادی اور برائی کا کیا رشتہ ہے؟
اسلام کے مطابق اللہ نے انسان کو اختیار دیا — اور اختیار کے بغیر نہ محبت ممکن ہے نہ اخلاق۔ انسانی ظلم انسانی اختیار کا نتیجہ ہے — اللہ کی ناانصافی نہیں۔
بے گناہ بچوں کی تکلیف کا جواب کیا ہے؟
یہ سب سے مشکل سوال ہے اور اسلام اسے آسان جواب سے نہیں ٹالتا۔ اسلام کہتا ہے: آخرت میں ہر تکلیف کا حساب ہوگا، معصوم بچوں کو جنت ملے گی، اور اللہ کی رحمت کا دائرہ ہماری سمجھ سے بڑا ہے۔