حسد اسلام میں: جب دوسرے کی خوشی تکلیف دے
حسد وہ جذبہ ہے جو لگ بھگ ہر انسان محسوس کرتا ہے لیکن کوئی تسلیم نہیں کرتا۔ اسلام نے اسے نہ چھپایا — بلکہ اس کی جڑ، نقصان، اور علاج تینوں کھل کر بیان کیے۔
حسد — وہ جذبہ جسے کوئی نہیں مانتا
کسی پرانے دوست کی تصویر دیکھیں — نئی گاڑی، نئی نوکری، خوشگوار چہرہ۔ اور اندر کچھ ہلتا ہے۔ کچھ تلخ۔
ہم کہتے ہیں: "خوش ہوں ان کی خوشی پر۔" لیکن کیا واقعی؟
حسد وہ جذبہ ہے جسے لگ بھگ ہر انسان محسوس کرتا ہے لیکن کوئی قبول نہیں کرتا۔ اسلام نے اسے نہ چھپایا — بلکہ اس کی شناخت، نقصان، اور علاج تینوں کے بارے میں کھل کر بات کی۔
پہلے: حسد اور غبطہ میں فرق
عربی زبان میں دو الفاظ ہیں جنہیں اردو میں ایک ہی لفظ "حسد" سے بیان کر دیا جاتا ہے — لیکن یہ دو مختلف جذبے ہیں:
حسد: دوسرے کے پاس جو نعمت ہے وہ اس سے چھن جائے۔ یا: اس کی نعمت دیکھ کر تکلیف ہو۔ یہاں دوسرے کی نعمت کا ختم ہونا چاہا جاتا ہے — یا کم از کم دیکھ کر ایذاء ہوتی ہے۔
غبطہ: جو دوسرے کے پاس ہے، ویسی نعمت مجھے بھی ملے — بغیر اس کی نعمت چھینے۔ یہ ایک مثبت تمنا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "حسد جائز نہیں سوائے دو چیزوں میں: ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے — تم آرزو کرو کہ مجھے بھی ایسا ہو۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی — تم آرزو کرو کہ مجھے بھی ملے۔"
یعنی غبطہ — ایسی نعمت پانے کی آرزو — ایک تحریک ہو سکتی ہے۔ لیکن حسد ہمیشہ نقصاندہ ہے۔
قرآن میں حسد
سورہ الفلق کی آخری آیت: وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ — اور حاسد (حسد کرنے والے) کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
یہ آیت بتاتی ہے: حسد ایک ایسی کیفیت ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے — اس لیے اس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔
اور قرآن میں حسد کی سب سے بڑی کہانی — یوسف علیہ السلام کے بھائی:
انہوں نے یوسف سے حسد کیا — باپ کی محبت کی وجہ سے۔ یہ حسد انہیں اپنے چھوٹے بھائی کو کنویں میں پھینکنے تک لے گیا۔
لیکن انجام دیکھیں: یوسف مصر کے وزیر بن گئے، اور بھائی ان کے سامنے جھکنے آئے۔ حسد نے انہیں کہیں نہیں پہنچایا۔
حسد: اللہ کی تقسیم پر اعتراض
اسلامی نقطہ نظر میں حسد کی جڑ کیا ہے؟
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ — اور آرزو نہ کرو اس چیز کی جو اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی (النساء: 32)۔
یعنی حسد کی جڑ یہ یقین ہے: اللہ نے ٹھیک تقسیم نہیں کی۔ جو اسے ملا وہ مجھے ملنا چاہیے تھا۔
یہ اصل میں اللہ سے شکوہ ہے — اس کی حکمت پر اعتراض۔
اور قرآن کا جواب: اللہ کو معلوم ہے جو تمہیں نہیں معلوم۔ جو نعمت آپ دیکھتے ہیں وہ کن آزمائشوں کے ساتھ آئی ہے؟ وہ تکلیفیں جو اس شخص کو ہیں جن پر آپ رشک کر رہے ہیں — وہ نظر نہیں آتیں۔
حسد اور نیکیاں
نبی ﷺ کا ایک مشہور قول ہے:
إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ — حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔
یہ بیان حیرت انگیز ہے۔ حسد دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتا — خود حسد کرنے والے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کیسے؟ دل جو حسد میں جلتا ہے وہ شکرگزاری سے خالی ہو جاتا ہے — اور شکرگزاری نہ ہو تو عبادت بھی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
حسد کا نفسیاتی نقصان
جدید نفسیات نے حسد کو "self-defeating emotion" کہا — ایسا جذبہ جو اپنے خلاف کام کرتا ہے۔
سوچیں: جو شخص حسد کرتا ہے، وہ دنیا میں دوسروں کی خوشی دیکھ کر دکھی ہوتا ہے۔ یعنی دنیا میں جتنی زیادہ خوشی ہو، وہ اتنا زیادہ تکلیف میں ہو۔
یہ ایک قید ہے — اپنے آپ سے۔
جو شخص حسد نہیں کرتا وہ دوسروں کی خوشی میں بھی خوش ہو سکتا ہے — دنیا اس کے لیے زیادہ خوشگوار جگہ بن جاتی ہے۔
علاج: سب سے مضبوط نسخہ
حسد کا علاج کیا ہے؟ علماء نے ایک طریقہ بتایا جو سب سے مضبوط اور سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے:
جس سے حسد ہو — اس کے لیے دعا کریں۔
یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک ہی وقت میں کسی سے حسد کریں اور اس کے لیے خیر بھی مانگیں — یہ جذبات ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
جب آپ دعا کرتے ہیں، دل آہستہ آہستہ بدلتا ہے۔ دشمنی محبت میں نہ بھی بدلے، لیکن جلن ختم ہو جاتی ہے۔
دوسرا طریقہ: اپنی نعمتیں گنیں۔ جب آنکھ دوسروں کی نعمتوں پر اٹکی ہو تو اپنی نعمتیں نظر نہیں آتیں۔ شکرگزاری حسد کا قدرتی تریاق ہے۔
تیسرا: یاد رکھیں کہ آپ کو پوری تصویر نظر نہیں آتی۔ جو نعمت نظر آتی ہے — اس کے ساتھ کیا کیا آیا ہوگا؟ کیا قیمت ادا کی گئی؟ کیا تکلیفیں ساتھ ہیں؟
غور کے لیے سوالات
- حسد اور غبطہ کا فرق — کیا آپ نے کبھی اپنے اندر یہ فرق محسوس کیا؟ کب جذبہ مثبت تھا اور کب تکلیف دہ؟
- "حسد نیکیوں کو کھاتا ہے" — یہ بیان روحانی اعتبار سے کیا معنی رکھتا ہے آپ کے لیے؟
- جس سے حسد ہو اس کے لیے دعا کرنا — کیا آپ سمجھتے ہیں یہ کام کر سکتا ہے؟ کیوں؟
faq
حسد اور غبطہ میں کیا فرق ہے؟
حسد یہ ہے کہ دوسرے کے پاس جو نعمت ہے وہ اس سے چھن جائے — یا اس کی نعمت دیکھ کر تکلیف ہو۔ غبطہ یہ ہے کہ دوسرے جیسی نعمت مجھے بھی ملے — بغیر اس کی نعمت چھینے۔ اسلام نے غبطہ دو چیزوں میں جائز کہا: علم میں اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں۔ حسد ہمیشہ نقصاندہ ہے، غبطہ تحریک دے سکتا ہے۔
قرآن میں حسد کہاں آیا ہے؟
سورہ الفلق (113) میں دعا ہے: 'حاسد کے شر سے پناہ، جب وہ حسد کرے۔' یہ بتاتا ہے کہ حسد ایک قوت ہے جو نقصان دے سکتی ہے۔ سورہ یوسف بھیائیوں کی حسد کی کہانی ہے — جس نے یوسف کو کنویں میں پھینکا، لیکن آخرکار حسد کرنے والوں کو ہی نقصان ہوا۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: 'حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔'
حسد کی جڑ کیا ہے؟
اسلامی نقطہ نظر میں حسد کی جڑ یہ یقین ہے کہ اللہ نے مجھ سے کچھ زیادتی کی — کہ جو دوسرے کو ملا وہ مجھے ملنا چاہیے تھا۔ یہ اصل میں اللہ کی تقسیم پر اعتراض ہے۔ قرآن کہتا ہے: 'اور آرزو نہ کرو اس چیز کی جو اللہ نے کچھ کو زیادہ دی ہے' (النساء: 32)۔
حسد کا علاج کیا ہے؟
علماء نے کئی طریقے بتائے: سب سے مضبوط — جس سے حسد ہو اس کے لیے دعا کریں۔ یہ دل کو بدلتا ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں کسی سے حسد کرنا اور اس کے لیے خیر مانگنا ممکن نہیں۔ اپنی نعمتیں گننا — جو میرے پاس ہے اس کا شکر۔ اور یہ یاد رکھنا کہ جو دوسرے کے پاس ہے، اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں۔
حسد کا نفسیاتی اثر کیا ہے؟
حسد کرنے والا خود سب سے زیادہ تکلیف میں ہوتا ہے — وہ دوسرے کی خوشی دیکھ کر دکھی ہوتا ہے، یعنی دنیا میں جتنی زیادہ خوشی ہو اتنا وہ زیادہ دکھی ہو۔ جدید نفسیات بھی کہتی ہے: حسد ایک 'self-defeating emotion' ہے — جو اپنے خلاف کام کرتا ہے، اپنی زندگی سے لطف نہیں اٹھانے دیتا۔