Sebe'
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ﴿١﴾
حمد اُس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے 1 اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے 2۔ وہ دانا اور باخبر ہے۔ 3
—يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۚ وَهُوَ ٱلرَّحِيمُ ٱلْغَفُورُ﴿٢﴾
جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُتر تا ہےاور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے۔ 1
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَا تَأْتِينَا ٱلسَّاعَةُ ۖ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَآ أَصْغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرُ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍ مُّبِينٍ﴿٣﴾
منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے 1 ! کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آکر رہے گی۔2اُس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھُپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرّے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے۔ 3
—لِّيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴿٤﴾
اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
—وَٱلَّذِينَ سَعَوْ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا مُعَـٰجِزِينَ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ﴿٥﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔ 1
—وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلْحَقَّ وَيَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ﴿٦﴾
اے نبیؐ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔ 1
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ﴿٧﴾
منکرین لوگوں سے کہتے ہیں "ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاؤ گے؟
—أَفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ فِى ٱلْعَذَابِ وَٱلضَّلَـٰلِ ٱلْبَعِيدِ﴿٨﴾
نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھُوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنُون لاحق ہے۔“ 1 نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔ 2
—أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ﴿٩﴾
کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دَھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گِرا دیں۔ 1 در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ 2
—۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَـٰجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ﴿١٠﴾
ہم نے داوٴدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ 1 (ہم نے حکم دیا کہ)اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو(اور یہی حکم ہم نے)پرندوں کو دیا۔ 2 ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا
—أَنِ ٱعْمَلْ سَـٰبِغَـٰتٍ وَقَدِّرْ فِى ٱلسَّرْدِ ۖ وَٱعْمَلُوا۟ صَـٰلِحًا ۖ إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿١١﴾
اس ہدایت کے ساتھ کہ زر ہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ 1 (اے آل ِ داوٴدؑ)نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں
—وَلِسُلَيْمَـٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ﴿١٢﴾
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخّر کر دیا ، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔ 1 ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا 2 اور ایسے جِن اس کے تابع کر دیے جو اپنے ربّ کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے۔ 3 اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے
—يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَـٰرِيبَ وَتَمَـٰثِيلَ وَجِفَانٍ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَـٰتٍ ۚ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ﴿١٣﴾
وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اُونچی عمارتیں، تصویریں 1 ، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں 2۔۔۔۔ اے آلِ داوٴدؑ ، عمل کرو شکر کے طریقے پر 3 ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں
—فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُۥ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٱلْغَيْبَ مَا لَبِثُوا۟ فِى ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ﴿١٤﴾
پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جِنّوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھُن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جِنّوں پر یہ بات کھُل گئی 1 کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلّت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ 2
—لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِى مَسْكَنِهِمْ ءَايَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ﴿١٥﴾
1 سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی 2 ، دو باغ دائیں اور بائیں 3۔ کھاوٴ اپنے ربّ کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاوٴ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا
—فَأَعْرَضُوا۟ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ ٱلْعَرِمِ وَبَدَّلْنَـٰهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَىْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَىْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ﴿١٦﴾
مگر وہ منہ موڑ گئے۔ 1 آخر کار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا 2 اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاوٴ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں 3
—ذَٰلِكَ جَزَيْنَـٰهُم بِمَا كَفَرُوا۟ ۖ وَهَلْ نُجَـٰزِىٓ إِلَّا ٱلْكَفُورَ﴿١٧﴾
یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے
—وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ٱلْقُرَى ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَـٰهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا ٱلسَّيْرَ ۖ سِيرُوا۟ فِيهَا لَيَالِىَ وَأَيَّامًا ءَامِنِينَ﴿١٨﴾
اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان ، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔ 1 چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ
—فَقَالُوا۟ رَبَّنَا بَـٰعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَـٰهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَـٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ﴿١٩﴾
مگر انہوں نے کہا”اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔ 1“ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِتّر کر ڈالا 2۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو 3
—وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ﴿٢٠﴾
اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا او ر انہوں نے اُسی کی پیروی کی ، بجُز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا 1
—وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلْـَٔاخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌ﴿٢١﴾
ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے 1۔ تیرا ربّ ہر چیز پر نگران ہے۔ 2
—قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ﴿٢٢﴾
1 (اے نبیؐ ، اِن مشرکین سے)کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو 2۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیّت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے
—وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَـٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥ ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا۟ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ﴿٢٣﴾
اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجُز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو 1۔ حتٰی کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دُور ہوگی تو وہ (سفارِش کرنے والوں سے)پوچھیں گے کہ تمہارے ربّ نے کیا جواب دیا۔ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے۔ 2
—۞ قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ﴿٢٤﴾
(اے نبیؐ)اِن سے پوچھو”کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟“کہو”اللہ 1۔ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھُلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ 2“
—قُل لَّا تُسْـَٔلُونَ عَمَّآ أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿٢٥﴾
ان سے کہو”جو قصُور ہم نے کیا ہواس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی 1۔“
—قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَهُوَ ٱلْفَتَّاحُ ٱلْعَلِيمُ﴿٢٦﴾
کہو”ہمارا ربّ ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔ وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔ 1“
—قُلْ أَرُونِىَ ٱلَّذِينَ أَلْحَقْتُم بِهِۦ شُرَكَآءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ﴿٢٧﴾
اِن سے کہو”ذرامجھے دکھاوٴ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے۔ 1“ ہر گز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے
—وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴿٢٨﴾
اور (اے نبیؐ)ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ 1
—وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴿٢٩﴾
یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ (قیامت کا)وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو 1 ؟
—قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَـْٔخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ﴿٣٠﴾
کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اُسے لاسکتے ہو۔ 1
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ بِهَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَلَا بِٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّـٰلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ ٱلْقَوْلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ لَوْلَآ أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ﴿٣١﴾
یہ کافر کہتے ہیں کہ ”ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے 1۔“ کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے ربّ کے حضُور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دُوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ”اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے 2۔“
—قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوٓا۟ أَنَحْنُ صَدَدْنَـٰكُمْ عَنِ ٱلْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَآءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ﴿٣٢﴾
وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے”کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے 1۔“
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ بَلْ مَكْرُ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُۥٓ أَندَادًا ۚ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَجَعَلْنَا ٱلْأَغْلَـٰلَ فِىٓ أَعْنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ﴿٣٣﴾
وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے”نہیں، بلکہ شب و روز کی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کُفر کریں اور دُوسروں کی اس کا ہمسر ٹھہرائیں 1۔“ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن مُنکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے۔ کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟
—وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ﴿٣٤﴾
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے 1
—وَقَالُوا۟ نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَٰلًا وَأَوْلَـٰدًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴿٣٥﴾
انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں 1
—قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴿٣٦﴾
اے نبیؐ ، اِن سے کہو میرا ربّ جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے۔ 1
—وَمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُكُم بِٱلَّتِى تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰٓ إِلَّا مَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ ٱلضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا۟ وَهُمْ فِى ٱلْغُرُفَـٰتِ ءَامِنُونَ﴿٣٧﴾
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ 1 یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دُہری جزا ہے ، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے 2
—وَٱلَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا مُعَـٰجِزِينَ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿٣٨﴾
رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے
—قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥ ۚ وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ﴿٣٩﴾
اے نبیؐ ، ان سے کہو”میرا ربّ بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کُھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔ 1 جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اَور دیتا ہے ، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے۔ 2“
—وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ أَهَـٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ﴿٤٠﴾
اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا”کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے 1 ؟“
—قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٱلْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ﴿٤١﴾
تو وہ جواب دیں گے”پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہےنہ کہ اِن لوگوں سے 1۔ دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے 2۔“
—فَٱلْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَلَا ضَرًّا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ﴿٤٢﴾
(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
—وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُكُمْ وَقَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ إِفْكٌ مُّفْتَرًى ۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴿٤٣﴾
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"
—وَمَآ ءَاتَيْنَـٰهُم مِّن كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍ﴿٤٤﴾
حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبّہ کرنے والا بھیجا تھا۔ 1
—وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا۟ مِعْشَارَ مَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ فَكَذَّبُوا۟ رُسُلِى ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ﴿٤٥﴾
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھُٹلا چکے ہیں۔ جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اُس کی عُشرِ عَشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں۔ مگر جب انہوں نے میرے رسُولوں کو جھُٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔ 1
—۞ قُلْ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا۟ لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا۟ ۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ﴿٤٦﴾
اے نبیؐ ، اِن سے کہوکہ”میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مِل کر اپنا دماغ لڑاوٴ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جُنون کی ہو 1 ؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبّہ کرنے والا ہے۔ 2“
—قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ﴿٤٧﴾
اِن سے کہو”اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے 1۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ 2“
—قُلْ إِنَّ رَبِّى يَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ عَلَّـٰمُ ٱلْغُيُوبِ﴿٤٨﴾
اِن سے کہو”میراربّ (مجھ پر)حق کا اِلقا کرتا ہے 1 اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔“
—قُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ ٱلْبَـٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ﴿٤٩﴾
کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"
—قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِى ۖ وَإِنِ ٱهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِىٓ إِلَىَّ رَبِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ قَرِيبٌ﴿٥٠﴾
کہو”اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا ربّ میرے اُوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سُنتا ہے اور قریب ہی ہے۔ 1
—