Mü'min
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
حمٓ﴿١﴾
ح م
—تَنزِيلُ ٱلْكِتَـٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ﴿٢﴾
اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے، سب کچھ جاننے والا ہے
—غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوْبِ شَدِيدِ ٱلْعِقَابِ ذِى ٱلطَّوْلِ ۖ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ إِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ﴿٣﴾
گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحبِ فضل ہے۔ کوئی معبُود اس کے سوا نہیں، اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ 1
—مَا يُجَـٰدِلُ فِىٓ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى ٱلْبِلَـٰدِ﴿٤﴾
اللہ کی آیات میں جھگڑے 1 نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے۔ 2 اِس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چَلَت پھِرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔ 3
—كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍۭ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَـٰدَلُوا۟ بِٱلْبَـٰطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ﴿٥﴾
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا ہے ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اُسے گرفتار کرے اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی
—وَكَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّهُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ﴿٦﴾
اِسی طرح تیرے ربّ کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کُفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصلِ جہنّم ہونے والے ہیں۔ 1
—ٱلَّذِينَ يَحْمِلُونَ ٱلْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِۦ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَٱغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا۟ وَٱتَّبَعُوا۟ سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ ٱلْجَحِيمِ﴿٧﴾
عرشِ الہٰی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دُعائے مغفرت کرتے ہیں۔ 1 وہ کہتے ہیں”اے ہمارے ربّ ، تُو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، 2 پس معاف کردے اور عذابِ دوزخ سے بچالے 3 اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ 4
—رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـٰتِ عَدْنٍ ٱلَّتِى وَعَدتَّهُمْ وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَٰجِهِمْ وَذُرِّيَّـٰتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ﴿٨﴾
اے ہمارے ربّ، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنّتوں میں جن کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا ہے 1 ، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچا دے 2)۔ تُو بلاشبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے
—وَقِهِمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ﴿٩﴾
اور بچا دے اُن کو برائیوں سے 1۔ جس کو تُو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے 2 بچا دیا اُس پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے۔“
—إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ ٱللَّهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى ٱلْإِيمَـٰنِ فَتَكْفُرُونَ﴿١٠﴾
جن لوگوں نے کُفر کیا ہے ، قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہا جائے گا”آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اُوپر آرہا ہے، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کُفر کرتے تھے۔“ 1
—قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا ٱثْنَتَيْنِ فَٱعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَىٰ خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ﴿١١﴾
وہ کہیں گے”اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، 1 اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں، 2 کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“ 3
—ذَٰلِكُم بِأَنَّهُۥٓ إِذَا دُعِىَ ٱللَّهُ وَحْدَهُۥ كَفَرْتُمْ ۖ وَإِن يُشْرَكْ بِهِۦ تُؤْمِنُوا۟ ۚ فَٱلْحُكْمُ لِلَّهِ ٱلْعَلِىِّ ٱلْكَبِيرِ﴿١٢﴾
(جواب ملے گا)”یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتےتھے اور جب اُس کے ساتھ دُوسروں کو مِلایا جاتا تو تُم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔ 1
—هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزْقًا ۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ﴿١٣﴾
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے 1 اور آسمان سے تمہارےلیے رزق نازل کرتا ہے، 2 مگر (اِن نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ 3
—فَٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَـٰفِرُونَ﴿١٤﴾
(پس اے رجوع کرنے والو)اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، 1 خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو
—رَفِيعُ ٱلدَّرَجَـٰتِ ذُو ٱلْعَرْشِ يُلْقِى ٱلرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوْمَ ٱلتَّلَاقِ﴿١٥﴾
وہ بلند درجوں والا، 1 مالکِ عرش ہے۔ 2 اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے 3 تاکہ وہ ملاقات کے دن 4 سے خبردار کر دے
—يَوْمَ هُم بَـٰرِزُونَ ۖ لَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ ۚ لِّمَنِ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ﴿١٦﴾
وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھُپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کر پُوچھا جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟ 1 (سارا عالم پکار اُٹھے گا)اللہ واحد قہّار کی
—ٱلْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ ٱلْيَوْمَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ﴿١٧﴾
(کہا جائے گا)آج ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ 1 اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ 2
—وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْـَٔازِفَةِ إِذِ ٱلْقُلُوبُ لَدَى ٱلْحَنَاجِرِ كَـٰظِمِينَ ۚ مَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ﴿١٨﴾
اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔ 1 جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا 2 اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔ 3
—يَعْلَمُ خَآئِنَةَ ٱلْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى ٱلصُّدُورُ﴿١٩﴾
اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھُپا رکھے ہیں
—وَٱللَّهُ يَقْضِى بِٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَقْضُونَ بِشَىْءٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ﴿٢٠﴾
اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلہ کر ے گا۔ رہے وہ جن کو (یہ مشرکین)اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔ 1
—۞ أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا۟ هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَءَاثَارًا فِى ٱلْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍ﴿٢١﴾
کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن زیادہ طاقت ور تھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور اُن کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا
—ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَكَفَرُوا۟ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ قَوِىٌّ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ﴿٢٢﴾
یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسُول بیّنات 1 لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا، یقیناً وہ بڑی قوّت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے
—وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَا وَسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ﴿٢٣﴾
ہم نے موسیٰؑ 1 کو اپنی نشانیاں اور نمایاں سند ماموریت کے ساتھ بھیجا
—إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَقَـٰرُونَ فَقَالُوا۟ سَـٰحِرٌ كَذَّابٌ﴿٢٤﴾
فرعون اور ہامان 1 اور قارُون کی طرف اپنی نشانیوں اور نمایاں سَنَدِ ماموریت 2 کے ساتھ بھیجا، مگر انہوں کہا”ساحر ہے، کذّاب ہے۔“
—فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ ٱقْتُلُوٓا۟ أَبْنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ وَٱسْتَحْيُوا۟ نِسَآءَهُمْ ۚ وَمَا كَيْدُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ﴿٢٥﴾
پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا 1 تو انہوں نے کہا”جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو۔“ 2 مگر کافروں کی چال اکارت گئی۔ 3
—وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِىٓ أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُۥٓ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْفَسَادَ﴿٢٦﴾
1 ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا”چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں، 2 اور پکار دیکھے یہ اپنے ربّ کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔“ 3
—وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ﴿٢٧﴾
موسیٰؑ نے کہا”میں نے تو ہر اُس متکبّر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ربّ اور تمہارے ربّ کی پناہ لے لی ہے۔“ 1
—وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَـٰنَهُۥٓ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّىَ ٱللَّهُ وَقَدْ جَآءَكُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَـٰذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُۥ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ ٱلَّذِى يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ﴿٢٨﴾
اس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھُپائے ہوئے تھا، بول اُٹھا”کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا ربّ اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات لے 1 آیا۔ اگر وہ جھُوٹا ہے تو اس کا جھُوٹ خود اسی پرپلٹ پڑے گا۔ 2 لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک تنائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔ 3
—يَـٰقَوْمِ لَكُمُ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ظَـٰهِرِينَ فِى ٱلْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأْسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ أُرِيكُمْ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ﴿٢٩﴾
اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کر سکے گا۔“ 1 فرعون نے کہا”میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے۔“ 2
—وَقَالَ ٱلَّذِىٓ ءَامَنَ يَـٰقَوْمِ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُم مِّثْلَ يَوْمِ ٱلْأَحْزَابِ﴿٣٠﴾
وہ شخص جو ایمان لایا تھا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آ جائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آ چکا ہے
—مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ﴿٣١﴾
جیسا دن قومِ نوحؑ ، اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ 1
—وَيَـٰقَوْمِ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ ٱلتَّنَادِ﴿٣٢﴾
اے قوم، مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریاد و فغاں کا دن نہ آ جائے
—يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ﴿٣٣﴾
جب تم ایک دوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھرو گے، مگر اُس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اُسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا
—وَلَقَدْ جَآءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُم بِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِهِۦ رَسُولًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ﴿٣٤﴾
اس سے پہلے یوسُفؑ تمہارے پاس بیّنات لے کر آئے تھے مگر تم اُن کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک میں پڑے رہے۔ پھر جب اُن کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب اُن کے بعد اللہ کوئی رسُول ہر گز نہ بھیجے گا 1“۔۔۔۔ 2 اِسی طرح اللہ اُن سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکّی ہوتے ہیں
—ٱلَّذِينَ يُجَـٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـٰنٍ أَتَىٰهُمْ ۖ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ﴿٣٥﴾
اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سَنَد یا دلیل آئی ہو۔ 1 یہ رویّہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اِسی طرح اللہ ہر متکبّر و جبّار کے دل پر ٹھپّہ لگا دیتا ہے۔ 2
—وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَـٰهَـٰمَـٰنُ ٱبْنِ لِى صَرْحًا لَّعَلِّىٓ أَبْلُغُ ٱلْأَسْبَـٰبَ﴿٣٦﴾
فرعون نے کہا "اے ہامان، میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں
—أَسْبَـٰبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ كَـٰذِبًا ۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِى تَبَابٍ﴿٣٧﴾
آسمانوں کے راستوں تک ، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں۔ مجھے تو یہ موسیٰؑ جھُوٹا ہی معلوم ہوتا ہے۔“ 1۔۔۔۔ اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہِ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی)تباہی کے راستہ ہی میں صَرف ہوئی
—وَقَالَ ٱلَّذِىٓ ءَامَنَ يَـٰقَوْمِ ٱتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ﴿٣٨﴾
وہ شخص جو ایمان لایا تھا، بولا "اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں
—يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا مَتَـٰعٌ وَإِنَّ ٱلْـَٔاخِرَةَ هِىَ دَارُ ٱلْقَرَارِ﴿٣٩﴾
اے قوم، یہ دُنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، 1 ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے
—مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَـٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ﴿٤٠﴾
جو برائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہو گی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا
—۞ وَيَـٰقَوْمِ مَا لِىٓ أَدْعُوكُمْ إِلَى ٱلنَّجَوٰةِ وَتَدْعُونَنِىٓ إِلَى ٱلنَّارِ﴿٤١﴾
اے قوم، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو تم لوگوں کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو!
—تَدْعُونَنِى لِأَكْفُرَ بِٱللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِۦ مَا لَيْسَ لِى بِهِۦ عِلْمٌ وَأَنَا۠ أَدْعُوكُمْ إِلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلْغَفَّـٰرِ﴿٤٢﴾
تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھہراوٴں جنہیں میں نہیں جانتا 1 ، حالانکہ میں تمہیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بُلا رہا ہوں
—لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُۥ دَعْوَةٌ فِى ٱلدُّنْيَا وَلَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ﴿٤٣﴾
نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بُلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ آخرت میں 1 ، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے ، اور حد سے گزرنے والے 2 آگ میں جانے والے ہیں
—فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ﴿٤٤﴾
آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے۔ اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے۔“ 1
—فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُوا۟ ۖ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ﴿٤٥﴾
آخر کار اُن لوگوں نے جو بُری سے بُری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا 1 ، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے۔ 2
—ٱلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ﴿٤٦﴾
دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔ 1
—وَإِذْ يَتَحَآجُّونَ فِى ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ ٱلنَّارِ﴿٤٧﴾
پھر ذرا خیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دُوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ”ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا یہاں تم نارِ جہنّم کی تکلیف کے کچھ حصّے سے ہم کو بچا لوگے؟“ 1
—قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ ٱلْعِبَادِ﴿٤٨﴾
وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے”ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔“ 1
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِى ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ ٱلْعَذَابِ﴿٤٩﴾
پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے "اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کر دے"
—قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۚ قَالُوا۟ فَٱدْعُوا۟ ۗ وَمَا دُعَـٰٓؤُا۟ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ﴿٥٠﴾
وہ پوچھیں گے”کیا تمہارے پاس تمہارے رسُول بیّنات لے کر نہیں آتے رہے تھے؟“وہ کہیں گے”ہاں۔“ جہنّم کے اہل کار بولیں گے”پھر تو تم ہی دُعا کرو ، اور کافروں کی دُعا اکارت ہی جانے والی ہے۔“ 1
—