25:21جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں”کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ 1 یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں۔ 2“بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں 3 اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سر کشی میں
25:22جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گےوہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہو گا 1 ، چیخ اُٹھیں گے کہ پناہ بخدا
25:23اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اُڑا دیں گے۔ 1
25:24بس وہی لوگ جو جنّت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھہریں گے اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔ 1
25:25آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے
25:26اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمٰن کی ہوگی۔ 1 اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا
25:27ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا
25:28ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا
25:29اُس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نِکلا۔ 1“
25:30اور رسُولؐ کہے گا کہ ”اے میرے ربّ، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہٴ تضحیک 1 بنا لیا تھا۔“
25:31اے محمد ؐ ، ہم نے تو اِسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے 1 اور تمہارے لیے تمہارا ربّ ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے۔ 2
25:32منکرین کہتے ہیں”اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اُتار دیا گیا؟“ 1۔۔۔۔ ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں 2 اور (اسی غرض کے لیے)ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے