Tâ-Hâ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
طه﴿١﴾
طٰہٰ
—مَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لِتَشْقَىٰٓ﴿٢﴾
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ
—إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ﴿٣﴾
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 1
—تَنزِيلًا مِّمَّنْ خَلَقَ ٱلْأَرْضَ وَٱلسَّمَـٰوَٰتِ ٱلْعُلَى﴿٤﴾
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو
—ٱلرَّحْمَـٰنُ عَلَى ٱلْعَرْشِ ٱسْتَوَىٰ﴿٥﴾
وہ رحمٰن(کائنات کے)تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ 1
—لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ ٱلثَّرَىٰ﴿٦﴾
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں
—وَإِن تَجْهَرْ بِٱلْقَوْلِ فَإِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخْفَى﴿٧﴾
تم چاہے اپنی بات پُکار کر کہو ، وہ تو چُپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی بات بھی جانتا ہے۔ 1
—ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ﴿٨﴾
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدانہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ 1
—وَهَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ﴿٩﴾
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟
—إِذْ رَءَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدًى﴿١٠﴾
جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی 1 اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“ 2
—فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ يَـٰمُوسَىٰٓ﴿١١﴾
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!
—إِنِّىٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى﴿١٢﴾
میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ 1 تُو وادی ِ مقدس طُویٰ میں ہے۔ 2
—وَأَنَا ٱخْتَرْتُكَ فَٱسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰٓ﴿١٣﴾
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے
—إِنَّنِىٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدْنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكْرِىٓ﴿١٤﴾
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ 1
—إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعَىٰ﴿١٥﴾
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ 1
—فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَن لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرْدَىٰ﴿١٦﴾
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا
—وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَـٰمُوسَىٰ﴿١٧﴾
اور اے موسیٰؑ ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ 1
—قَالَ هِىَ عَصَاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِى وَلِىَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخْرَىٰ﴿١٨﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“ 1
—قَالَ أَلْقِهَا يَـٰمُوسَىٰ﴿١٩﴾
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"
—فَأَلْقَىٰهَا فَإِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعَىٰ﴿٢٠﴾
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا
—قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلْأُولَىٰ﴿٢١﴾
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی
—وَٱضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخْرَىٰ﴿٢٢﴾
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ 1 یہ دُوسری نشانی ہے
—لِنُرِيَكَ مِنْ ءَايَـٰتِنَا ٱلْكُبْرَى﴿٢٣﴾
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں
—ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ﴿٢٤﴾
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"
—قَالَ رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى﴿٢٥﴾
موسیٰؑ نے عرض کیا”پروردگار، میرا سینہ کھول دے، 1
—وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى﴿٢٦﴾
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے
—وَٱحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِى﴿٢٧﴾
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے
—يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى﴿٢٨﴾
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، 1
—وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِى﴿٢٩﴾
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے
—هَـٰرُونَ أَخِى﴿٣٠﴾
ہارون ، جو میرا بھائی ہے۔ 1
—ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى﴿٣١﴾
اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر
—وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى﴿٣٢﴾
اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے
—كَىْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا﴿٣٣﴾
تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں
—وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا﴿٣٤﴾
اور خوب تیرا چرچا کریں
—إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًا﴿٣٥﴾
تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"
—قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَـٰمُوسَىٰ﴿٣٦﴾
فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ
—وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَىٰٓ﴿٣٧﴾
ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ 1
—إِذْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ﴿٣٨﴾
یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے
—أَنِ ٱقْذِفِيهِ فِى ٱلتَّابُوتِ فَٱقْذِفِيهِ فِى ٱلْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ ٱلْيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّى وَعَدُوٌّ لَّهُۥ ۚ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّى وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِىٓ﴿٣٩﴾
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے
—إِذْ تَمْشِىٓ أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُۥ ۖ فَرَجَعْنَـٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَـٰكَ مِنَ ٱلْغَمِّ وَفَتَنَّـٰكَ فُتُونًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍ يَـٰمُوسَىٰ﴿٤٠﴾
یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ
—وَٱصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى﴿٤١﴾
میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے
—ٱذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَـٰتِى وَلَا تَنِيَا فِى ذِكْرِى﴿٤٢﴾
جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا
—ٱذْهَبَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ﴿٤٣﴾
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے
—فَقُولَا لَهُۥ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ﴿٤٤﴾
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کے وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔“ 1
—قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَآ أَوْ أَن يَطْغَىٰ﴿٤٥﴾
دونوں 1 نے عرض کیا”پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا۔“
—قَالَ لَا تَخَافَآ ۖ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَىٰ﴿٤٦﴾
فرمایا " ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں
—فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَـٰكَ بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ﴿٤٧﴾
جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے
—إِنَّا قَدْ أُوحِىَ إِلَيْنَآ أَنَّ ٱلْعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ﴿٤٨﴾
ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جُھٹلائے اور منہ موڑے۔“ 1
—قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَـٰمُوسَىٰ﴿٤٩﴾
فرعون 1 نے کہا”اچھا، تو پھر تم دونوں کا ربّ کو ن ہے اے موسیٰ؟“ 2
—قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعْطَىٰ كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ﴿٥٠﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا”ہمارا ربّ وہ 1 ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔“ 2
—