Kasas
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
طسٓمٓ﴿١﴾
ط س م
—تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ﴿٢﴾
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں
—نَتْلُوا۟ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِٱلْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴿٣﴾
ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں،1 ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔2
—إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ﴿٤﴾
واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی 1اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ 2 ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کر تا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔3 فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا
—وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ ٱلْوَٰرِثِينَ﴿٥﴾
اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں1 اور انہی کو وارث بنائیں2
—وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَنُرِىَ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَحْذَرُونَ﴿٦﴾
اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان1 اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا
—وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ ۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ﴿٧﴾
1ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ”اِس کو دُودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔“2
—فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا۟ خَـٰطِـِٔينَ﴿٨﴾
آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے)نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے،1 واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیرمیں)بڑے غلط کار تھے
—وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّى وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴿٩﴾
فرعون کی بیوی نے (اس سے)کہا”یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔“1 اور وہ (انجام سے)بے خبر تھے
—وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَـٰرِغًا ۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِۦ لَوْلَآ أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ﴿١٠﴾
اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو
—وَقَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴿١١﴾
اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو)اس کا پتہ نہ چلا۔1
—۞ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُۥ لَكُمْ وَهُمْ لَهُۥ نَـٰصِحُونَ﴿١٢﴾
اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔1 (یہ حالت دیکھ کر)اُس لڑکی نے اُن سے کہا”میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاوٴں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟2
—فَرَدَدْنَـٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴿١٣﴾
اس طرح ہم موسیٰؑ کو1 اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،2 مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ “
—وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ﴿١٤﴾
جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اُس کا نشوونما مکمل ہوگیا1 تو ہم نے اُسے حکم اور علم عطا کیا،2 ہم نے نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں
—وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَـٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَـٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَـٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ﴿١٥﴾
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔1 وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا2 اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی)موسیٰؑ نے کہا”یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔“3
—قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٦﴾
پھر وہ کہنے لگا”اے میرے ربّ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے۔“1 چنانچہ اللہ نے اُس کی مغفرت فرما دی، وہ غفورٌ رحیم ہے۔2
—قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ﴿١٧﴾
موسیٰؑ نے عہد کیا کہ ”اے میرے ربّ، یہ احسان جو تُو نے مجھ پر کیا ہے1 اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔“2
—فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ ۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِينٌ﴿١٨﴾
دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکاررہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا”تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔“1
—فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ﴿١٩﴾
پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے1 تو وہ پکار اُٹھا2 ”اے موسیٰؑ ، کیا آج تُو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تُو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔“
—وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ﴿٢٠﴾
اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا1 اور بولا ”موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں۔“
—فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ﴿٢١﴾
یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"
—وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يَهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ﴿٢٢﴾
(مصر سے نکل کر)جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا1 تو اُس نے کہا”اُمید ہے کہ میرا ربّ مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا۔“2
—وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ﴿٢٣﴾
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا1 تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“2
—فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴿٢٤﴾
یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"
—فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰهُمَا تَمْشِى عَلَى ٱسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ﴿٢٥﴾
(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ)اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی1 اور کہنے لگی”میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔“2 موسیٰؑ جب اُس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اُسے سُنایا تو اُس نے کہا ”کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نِکلے ہو۔“
—قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَـٰٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ﴿٢٦﴾
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔“1
—قَالَ إِنِّىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَـٰتَيْنِ عَلَىٰٓ أَن تَأْجُرَنِى ثَمَـٰنِىَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ﴿٢٧﴾
اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے)کہا”1 میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر دس سال تک پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم انشاء اللہ مجھے نیک آدمی پاوٴ گے۔“
—قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٰنَ عَلَىَّ ۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴿٢٨﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں مدّتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اُس پر نگہبان ہے۔“1
—۞ فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى ٱلْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ﴿٢٩﴾
جب موسیٰؑ نے مدّت پوری کر دی1 اور اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اُس کو ایک آگ نظر آئی۔2 اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا”ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آوٴں یا اُس آگ سے کوئی انگارا ہی اُٹھا لاوٴں جس سے تم تاپ سکو۔“
—فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ مِن شَـٰطِئِ ٱلْوَادِ ٱلْأَيْمَنِ فِى ٱلْبُقْعَةِ ٱلْمُبَـٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَـٰمُوسَىٰٓ إِنِّىٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿٣٠﴾
وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے1 پر مبارک خطّے میں2 ایک درخت سے پُکارا گیا کہ”اے موسیٰؑ ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہاں والوں کا مالک۔“
—وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَـٰمُوسَىٰٓ أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلْـَٔامِنِينَ﴿٣١﴾
اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے
—ٱسْلُكْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ وَٱضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهْبِ ۖ فَذَٰنِكَ بُرْهَـٰنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا فَـٰسِقِينَ﴿٣٢﴾
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔1 اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔2 یہ دوروشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔“3
—قَالَ رَبِّ إِنِّى قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ﴿٣٣﴾
موسیٰؑ نے عرض کیا”میرے آقا، میں تو اُن کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔1
—وَأَخِى هَـٰرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِىَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِىٓ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ﴿٣٤﴾
اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"
—قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـٰنًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا ۚ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلْغَـٰلِبُونَ﴿٣٥﴾
فرمایا”ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا۔“1
—فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَا بَيِّنَـٰتٍ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَمَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِينَ﴿٣٦﴾
پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادُو۔1 اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنی ہی نہیں۔2
—وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّىٓ أَعْلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ مِنْ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَـٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ﴿٣٧﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا”میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔“1
—وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرِى فَأَوْقِدْ لِى يَـٰهَـٰمَـٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجْعَل لِّى صَرْحًا لَّعَلِّىٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ﴿٣٨﴾
اور فرعون نے کہا”اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔1 ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹاسمجھتا ہوں۔“2
—وَٱسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ﴿٣٩﴾
اُس نے اور اُس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا1 اور سمجھے کہ اُنہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔2
—فَأَخَذْنَـٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ﴿٤٠﴾
آخر کار ہم نے اُسے اور اُس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔1 اب دیکھ لو کہ اُن ظالموں کا کیسا انجام ہوا
—وَجَعَلْنَـٰهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ﴿٤١﴾
ہم نے اُنہیں جہنّم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا1 اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
—وَأَتْبَعْنَـٰهُمْ فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةً ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ هُم مِّنَ ٱلْمَقْبُوحِينَ﴿٤٢﴾
ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔1
—وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ ٱلْأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴿٤٣﴾
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر ، ہدایت اور رحمت بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔1
—وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَى ٱلْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ﴿٤٤﴾
(اے محمدؐ)تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے1 جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے،2
—وَلَـٰكِنَّآ أَنشَأْنَا قُرُونًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴿٤٥﴾
بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔1 تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے،2 مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں
—وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَـٰكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴿٤٦﴾
اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے(کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) 1 تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا،2 شاید کہ وہ ہوش میں آئیں
—وَلَوْلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ ءَايَـٰتِكَ وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ﴿٤٧﴾
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں”اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔“1
—فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ لَوْلَآ أُوتِىَ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ مُوسَىٰٓ ۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۖ قَالُوا۟ سِحْرَانِ تَظَـٰهَرَا وَقَالُوٓا۟ إِنَّا بِكُلٍّ كَـٰفِرُونَ﴿٤٨﴾
مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے”کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟“1 کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟2 اُنہوں نے کہا”دونوں جادُو ہیں3 جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ اور کہا”ہم کسی کو نہیں مانتے۔“
—قُلْ فَأْتُوا۟ بِكِتَـٰبٍ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَآ أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴿٤٩﴾
(اے نبیؐ)اِن سے کہو”اچھا، تو لاوٴ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔“1
—فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكَ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَآءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ﴿٥٠﴾
اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا
—