فرعون کے خلاف جدوجہد اور نجات
وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ
یاد کرو ، جب ہم نے موسیٰ ؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بُلایا، 1تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبُود بنا بیٹھے۔2اُس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی
۞ وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنفَجَرَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ مِن رِّزْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
یاد کرو ، جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہاکہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔چنانچہ اُس سے بارہ چشمے پھوٹ1 نکلےاور ہر قبیلے نے جان لیاکہ کون سی جگہ اُس کے پانی لینے کی ہے۔اُس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہُوا رزق کھاوٴ پیو،اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَـٰكُم بِقُوَّةٍ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طور کو تم پر اُٹھاکرتم سے پُختہ عہد لیاتھا اور کہا1 تھاکہ ”جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اُسے مضبوطی کے ساتھ تھامنااور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں اُنہیں یاد رکھنا۔ اسی ذریعے سےتوقع کی جاسکتی ہےکہ تم تقوٰی کی روش پر چل سکو گے“
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا۟ بَقَرَةً ۖ قَالُوٓا۟ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ
پھر وہ واقعہ یاد کرو، جب موسیٰؑ نے اپنے قوم سے کہا کہ، اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰؑ نے کہا، میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ
پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اُوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا 1مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا،2 پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا
وَقَالَ مُوسَىٰ يَـٰفِرْعَوْنُ إِنِّى رَسُولٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
موسیٰ نے کہا”اے فرعون1، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا گیا ہوں
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا
قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
موسیٰؑ نے جواب دیا "تم ہی پھینکو" انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے
۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھُوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔1
وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَـٰجِدِينَ
اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا
آیت 37+ ...