19:1ک، ہ، ی، ع، ص
19:2ذکر ہے 1 اُس رحمت کا جو تیرے ربّ نے اپنے بندے زکریا 2 پر کی تھی
19:3جبکہ اُس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا
19:4اُس نے عرض کیا "اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا
19:5مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے 1 ، اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے
19:6جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی پائے، 1 اور اے پروردگار، اس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔“
19:7(جواب دیا گیا)”اے زکریا، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔“ 1
19:8عرض کیا، "پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں؟"
19:9جواب مِلا”ایسا ہی ہوگا۔ تیرا ربّ فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔“ 1
19:10زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے"
19:11چنانچہ وہ محراب 1 سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔ 2