26:1ط س م
26:2یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔ 1
26:3اے محمدؐ ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 1
26:4ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جُھک جائیں۔ 1
26:5اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
26:6اب کہ یہ جھُٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے)معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔ 1
26:7اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟
26:8یقیناً اس میں ایک نشانی ہے 1 ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
26:9اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ 1
26:10اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ تمہارے ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا”1 ظالم قوم کے پاس جا
26:11فرعون کی قوم کے پاس 1۔۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“ 2
26:12اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
26:13میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔ 1
26:14اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 1
26:15فرمایا”ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر 1 ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے
26:16فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے
26:17کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“ 1
26:18فرعون نے کہا”کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ 1 تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے
26:19اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا 1 ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔“