33:11 اے نبیؐ! اللہ سے ڈرو اور کفّار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے۔ 2
33:2پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ 1
33:3اللہ پر توکّل کرو، اور اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔1
33:4اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے ہیں 1 ، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے 2 ، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہار حقیقی بیٹا بنایا ہے۔ 3 یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو،مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے
33:5منہ بولے بیٹو ں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو،یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ 1 اور اگے تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ 2 نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے،لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔ 3 اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ 4
33:6بلاشبہ نبی تو اہلِ ایمان کےلیے اُن کی اپنی ذات پر مقّدم ہے 1 ، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں 2 ، مگر کتاب اللہ کی رو عام مومنین ومہاجرین کی بہ بسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کرسکتے ہو۔ 3 یہ حکم کتابِ الٰہی میں لکھا ہوا ہے