47:1جن لوگوں نے کفر کیا1 اور اللہ کے راستے سے روکا،2اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا۔3
47:2اور جو لوگ ایما ن لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہے۔۔۔۔اور1 ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے۔۔۔۔اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں 2اور ان کا حال درست کر دیا۔3
47:3یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ اس طرح اللہ لوگوں کو ان کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے۔1
47:4پس جب ان کافروں سے تمہاری مُڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد(تمہیں اختیار ہے) احسان کر ویا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔1 یہ ہے تمہارے کرنے کا کام۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا، مگر(یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے)تا کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے۔ 2اور جو لوگ اللہ راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کےاعمال کو ہر گز ضائع نہ کرے گا۔ 3
47:5وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کر دے گا
47:6اور ان کو اُس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے۔1
47:7اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا1 اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا
47:8رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے، تو ان کے لیے ہلاکت ہے1 اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے
47:9کیونکہ انہوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے،1 لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے
47:10کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھےکہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ اللہ نے ان کا سب کچھ ان پر الٹ دیا، اور ایسے ہی نتائج ان کافروں کے لیے مقدر ہیں۔1
47:11یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں۔ 1