53:1قسم ہے تارے کی 1 جبکہ وہ غروب ہوا
53:2تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے 1 نہ بہکا ہے۔ 2
53:3وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا
53:4یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔ 1
53:5اُسے زبر دست قوت والے نے تعلیم دی ہے 1
53:6جو بڑا صاحبِ حکمت ہے۔ 1
53:7وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا 1
53:8پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا
53:9یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ 1
53:10تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ 1
53:11نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نےاس میں جھوٹ نہ ملایا۔ 1
53:12اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟
53:13اور ایک مرتبہ پھر اُس نے
53:14سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا
53:15جہاں پاس ہی جنت الماوٰی ہے۔ 1
53:16اُس وقت سِدرہ پر چھا رہا تھا 1 جو کچھ کہ چھا رہا تھا
53:17نگاہ نہ چُوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی 1
53:18اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ 1
53:19اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ
53:20اور تیسری ایک اور دیوی مَنات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟ 1
53:21کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے؟ 1
53:22یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی!
53:23در اصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ 1 حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کے مُرید بنے ہوئے ہیں۔ 2 حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ 3
53:24کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وہی حق ہے؟1
53:25دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے
53:26آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔ 1