53:45اور یہ کہ اُسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا
53:46ایک بُوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے،1
53:47اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اُسی کے ذمّہ ہے،1
53:48اور یہ کہ اُسی نے غنی کیا اور جائیداد بخشی،1
53:49اور یہ کہ وہی شِعریٰ کا ربّ ہے،1
53:50اور یہ کہ اُسی نے عادِ اولیٰ1 کو ہلاک کیا
53:51اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا
53:52اور اُن سے پہلے قوم نوحؑ کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ
53:53اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا
53:54پھر چھا دیا اُن پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ) کیا چھا دیا۔1
53:551 پس اے مخاطب ، اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تُو شک کرے گا“؟2
53:56یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے
53:57آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے،1
53:58اللہ کے سوا کوئی اُس کو ہٹانے والا نہیں۔ 1
53:59اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہارِ تعجّب کرتے ہو؟1
53:60ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو؟
53:61اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو؟1
53:62جُھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ۔1
54:1قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ 1
54:2مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ 1
54:3اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلادیا اور اپنی خواہشاتِ نفس ہی کی پیروی کی۔ 1 ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ 2
54:4اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے
54:5اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں
54:6پس اے نبیؐ ، اِن سے رُخ پھیر لو۔ 1 جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار 2 چیز کی طرف پکارے گا