60:11 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے)نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔تم اُن کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس کو ماننے سے وہ انکار کر چکے ہیں اور اُن کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اِس قصُور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم چُھپا کر اُن کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں۔ جو شخص بھی تم میں سے ایساکرے وہ یقیناً راہِ راست سے بھٹک گیا
60:2اُن کا رویّہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ۔ 1
60:3قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔1 اُس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا،2 اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ 3
60:4تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا”ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پُوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا 1 اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔“مگر ابراہیمؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اِس سے مستثنٰی ہے) کہ ”میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے“2 (اور ابراہیمؑ واصحابِ ابراہیمؑ کی دعا یہ تھی کہ)”اے ہمارے رب، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے
60:5اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنادے۔1 اور اے ہمارے رب، ہمارے قصُوروں سے درگزر فرما، بے شک تُو ہی زبردست اور دانا ہے۔“