65:1اے نبیؐ ، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدّت کے لیے طلاق دیا کرو۔ 1 اور عدّت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو، 2 اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (زمانہ عدّت میں) نہ تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، 3 الّا یہ کہ وہ کسی صریح بُرائی کی مرتکب ہوں۔ 4 یہ اللہ کی مقرر کر دہ حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کریگا وہ اپنے اوپر خود ظلم کریگا۔ تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صُورت پیدا کر دے۔ 5
65:2پھر جب وہ اپنی (عدّت کی) مدّت کے خاتمے پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا بَھلے طریقے پر اُن سے جُدا ہو جاؤ۔ 1 اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔ 2 اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو۔یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو۔ 3 جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا 4
65:3اور اُسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ 1 جو اللہ پر بھروسہ کرے اُس کےلیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ 2 اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے
65:4اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدّت تین مہینے ہے۔ 1 اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ 2 اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضعِ حمل ہو جائے۔ 3 جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کردیتاہے
65:5یہ اللہ کا حکم ہے جواُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اُس کی بُرائیوں کو اُس سے دُور کر دے گا اور اُس کو بڑا اجر دے گا۔ 1