100:6حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے ربّ کا بڑا ناشکرا ہے، 1
100:7اور وہ خود اِس پر گواہ ہے، 1
100:8اور وہ مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مُبتلا ہے۔ 1
100:9تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا، 1
100:10اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے بر آمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ 1
100:11یقیناً اُن کا ربّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا۔ 1
101:1عظیم حادثہ! 1
101:2کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟
101:3تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟
101:4وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح
101:5اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے۔ 1
101:6پھر 1 جس کے پلڑے بھاری ہوں گے
101:7وہ دل پسند عیش میں ہوگا
101:8اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے 1
101:9اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی۔ 1
101:10اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے؟
101:11بھڑکتی ہوئی آگ۔ 1
102:1تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دُوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے 1
102:2یہاں تک کہ (اِسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ 1
102:3ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ 1
102:4پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا
102:5ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)
102:6تم دوزخ دیکھ کر رہو گے
102:7پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے
102:8پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ 1