قرآن اور جدید سائنس: ایک ذمہ دارانہ جائزہ
قرآن اور سائنس کا موضوع اکثر دو غلط انتہاؤں میں پھنسا رہتا ہے۔ ایک منصفانہ اور فکری نقطۂ نظر سے اس تعلق کو سمجھنے کی کوشش۔
قرآن اور جدید سائنس: ایک ذمہ دارانہ جائزہ
جب کوئی مسلمان سائنس کا نام لے تو دو طرح کے ردِعمل عام ہیں۔ ایک: "قرآن میں سب کچھ پہلے سے لکھا ہے۔" دوسرا: "مذہب اور سائنس کا کوئی تعلق نہیں۔"
دونوں ناقص ہیں۔ حقیقت زیادہ دلچسپ اور زیادہ پیچیدہ ہے۔
قرآن کا اصل مقصد
پہلی بات واضح کر لیں: قرآن سائنسی کتاب نہیں ہے۔ یہ انسان کو اللہ کے ساتھ اپنا رشتہ سمجھانے کی کتاب ہے — اخلاق، روحانیت، تاریخ، قانون۔
لیکن قرآن میں 750 سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو انسان کو مشاہدہ کرنے، سوچنے اور قدرت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ سائنسی طرزِ فکر کی بنیاد ہے — تجسس اور مشاہدہ۔
اسلامی سائنس کا سنہری دور
آٹھویں سے تیرہویں صدی تک بغداد، قرطبہ، اور سمرقند دنیا کے علمی مراکز تھے۔
الخوارزمی نے الجبرا ایجاد کیا — "الخوارزمی" سے ہی "Algorithm" بنا۔ ابن الہیثم نے روشنی اور بصارت کی سائنس رکھی — وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے بتایا کہ آنکھ روشنی خارج نہیں کرتی، وصول کرتی ہے۔ ابن سینا کا طبی انسائیکلوپیڈیا 600 سال تک یورپی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا رہا۔
یہ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود نہیں — بلکہ جزوی طور پر اس لیے سائنسدان بنے کیونکہ ان کا ایمان انہیں کائنات کو سمجھنے پر آمادہ کرتا تھا۔
قرآن کی کچھ قابلِ غور آیات
کچھ آیات ہیں جن کے بارے میں سوچنا دلچسپ ہے:
کائنات کے پھیلاؤ کا ذکر: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ — یہ 1929 میں ہبل کی دریافت سے پہلے لکھا ہوا ہے۔
پانی سے زندگی کا ذکر: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ — جو آج حیاتیات کی بنیادی حقیقت ہے۔
یہ اتفاق ہیں یا اشارے؟ یہ سوال ہر پڑھنے والا خود کرے — اور دونوں طرف سے دیانتداری برتے۔
احتیاط کی ضرورت
اعجازِ علمی کے بہت سے دعوٰی ہیں جن میں جدید سائنس کو قرآن میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ یہ دلچسپ ہے — لیکن خطرناک بھی۔
خطرہ یہ ہے: اگر ہم قرآن کی تفسیر کو سائنسی نظریے کے مطابق بدلتے رہیں تو قرآن سائنسی نظریات کا غلام بن جاتا ہے — جبکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں۔
قرآن کو قرآن رہنے دیں — اور سائنس کو سائنس۔ دونوں کا مکالمہ ہو، لیکن ہر ایک اپنی جگہ پر۔
مشترکہ جستجو
آخر میں یہ: سائنس اور ایمان ایک مشترک روح رکھتے ہیں — حقیقت کی تلاش۔ ایک تجربہ اور مشاہدے سے، دوسرا وحی اور فکر سے۔
وہ مسلم سائنسدان جو صبح نماز پڑھتے تھے اور دن میں کائنات کے اسرار کھوجتے تھے — انہیں کوئی تضاد نظر نہیں آتا تھا۔ اور شاید واقعی تھا بھی نہیں۔
faq
کیا قرآن ایک سائنسی کتاب ہے؟
نہیں — قرآن روحانی اور اخلاقی رہنمائی کی کتاب ہے۔ لیکن یہ عقل اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے، جو سائنسی طرزِ فکر کی بنیاد ہے۔
مسلم سائنسدانوں کا سب سے بڑا سائنسی کارنامہ کیا ہے؟
علم الجبرا (الخوارزمی)، طبی انسائیکلوپیڈیا (ابن سینا)، علم بصریات (ابن الہیثم)، جغرافیہ اور خلاء کی پیمائش (البیرونی) — یہ سب وہ کارنامے ہیں جنہوں نے یورپی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھی۔
اعجازِ علمی کا دعوٰی کیا ہے اور اس میں کیا احتیاط ضروری ہے؟
اعجازِ علمی یہ ہے کہ قرآن میں جدید سائنس کی تصدیق ہے۔ احتیاط یہ ضروری ہے کہ قرآن کا مطلب سائنسی نظریات کے مطابق بدلتا نہ رہے — قرآن کی حیثیت سائنسی نظریے سے بالاتر ہے۔