قرآن اور سائنس — اصل دعوے کیا ہیں؟
قرآن اور جدید سائنس کے بارے میں دو انتہائی مواقف ہیں — ایک جو بہت زیادہ دعویٰ کرتا ہے، ایک جو بالکل رد کرتا ہے۔ ایک متوازن اور ایمانداری سے جائزہ۔
قرآن اور سائنس — اصل دعوے کیا ہیں؟
دو غلطیاں اس موضوع پر بہت عام ہیں۔
پہلی: "قرآن نے سب کچھ پہلے بتا دیا تھا۔" ہر سائنسی دریافت کے بعد کوئی نہ کوئی آیت ڈھونڈ لی جاتی ہے۔
دوسری: "مذہب اور سائنس کا کوئی تعلق نہیں اور نہیں ہو سکتا۔"
دونوں بہت سادہ ہیں۔
قرآن کا قدرت کے ساتھ رشتہ
قرآن میں قدرتی مظاہر کے درجنوں حوالے ہیں — ستارے، ابر، بارش، سمندر، ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما، شہد کی مکھی۔
ان سب کا مقصد یکساں ہے: "کیا وہ نہیں دیکھتے؟" — یہ غور کرنے کی دعوت ہے، نہ سائنسی خاکہ پیش کرنا۔
قرآن یہ نہیں کہتا "شہد کی مکھی ایسے پروازیں کرتی ہے" — یہ کہتا ہے "تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو وحی (ہدایت) دی" اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس چھوٹی مخلوق میں کیا حکمت ہے۔
جو واقعی دلچسپ ہے
کچھ آیات ہیں جو سائنسی دریافتوں سے قابل توجہ مطابقت رکھتی ہیں:
آیت 51:47 — آسمان کو وسعت دینے کا ذکر — Edwin Hubble کی 1929 کی دریافت سے پہلے۔
جنین کی نشوونما — نطفہ، علقہ، مضغہ — جو حیرت انگیز حد تک جدید embryology کے مراحل سے ملتے ہیں۔
دو سمندروں کا نہ ملنا (55:19-20) — halocline کا مظہر۔
یہ دلچسپ ہے اور قابل غور ہے۔ مگر ایمانداری یہ بھی ہے کہ یہ "ثبوت" نہیں — یہ ایک سوال ہے۔
Confirmation Bias کا خطرہ
اگر ہم کسی بھی کتاب کو پکڑ کر یہ سوچیں کہ اس میں ہر سائنسی دریافت موجود ہے، ہم کچھ نہ کچھ ملا ہی لیں گے — کیونکہ انسانی دماغ پیٹرن ڈھونڈتا ہے۔
یہی "Confirmation Bias" کہلاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآنی آیات کو ان کے اپنے سیاق میں پہلے سمجھیں، پھر دیکھیں کہ سائنسی مطابقت ہے یا نہیں — نہ کہ سائنس سے شروع کر کے آیت ڈھونڈیں۔
مسلمان سائنسدانوں کا نقطہ نظر
تاریخ میں عظیم مسلمان سائنسدان رہے ہیں — ابن الہیثم (بصریات)، ابن سینا (طب)، البیرونی (ریاضی، جغرافیہ)، الخوارزمی (الجبرا)۔ انہوں نے سائنس اور دین کو متضاد نہیں سمجھا۔
آج بھی مسلمان سائنسدان یہی کہتے ہیں: میری سائنس مجھے بتاتی ہے کائنات کیسے کام کرتی ہے، میرا ایمان مجھے بتاتا ہے اس کائنات کا مطلب کیا ہے۔ یہ دونوں سوالات الگ الگ ہیں — اور دونوں ضروری ہیں۔
faq
کیا قرآن سائنسی کتاب ہے؟
نہیں — اور اسے سائنسی کتاب سمجھنا ایک hermeneutical غلطی ہے۔ قرآن ایک روحانی، اخلاقی، اور الہی رہنمائی کی کتاب ہے۔ یہ قدرتی مظاہر کا ذکر کرتا ہے — مگر سائنسی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ غور و فکر کی دعوت کے لیے۔
قرآن میں کائنات کی توسیع کا ذکر کیا واقعی ہے؟
آیت 51:47 میں ہے: اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا اور ہم اسے وسعت دینے والے ہیں۔ یہ جدید Big Bang اور expanding universe کے نظریے سے ملتا جلتا ہے — مگر یہ دعوی سنبھال کر کرنا چاہیے: متن کا ترجمہ اور تشریح کئی طریقوں سے ممکن ہے۔
سائنسدان مسلمان اپنے ایمان اور سائنس کو کیسے جوڑتے ہیں؟
بیشتر مسلمان سائنسدان دونوں کو الگ الگ دائروں کے طور پر دیکھتے ہیں: سائنس 'کیسے' کے سوالات کا جواب دیتی ہے، دین 'کیوں' اور 'کس مقصد کے لیے' کے سوالات کا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو چیلنج نہیں کرتے — وہ مختلف سوالات کا جواب دیتے ہیں۔