Yâsîn
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
يسٓ﴿١﴾
یٰسٓ۔ 1
—وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيمِ﴿٢﴾
قسم ہے قرآن حکیم کی
—إِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ﴿٣﴾
کہ تم یقیناً رسُولوں میں سے ہو 1
—عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴿٤﴾
سیدھے راستے پر ہو
—تَنزِيلَ ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ﴿٥﴾
(اور یہ قرآن)غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے 1
—لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـٰفِلُونَ﴿٦﴾
تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ 1
—لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَىٰٓ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴿٧﴾
اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہٴ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں، اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔ 1
—إِنَّا جَعَلْنَا فِىٓ أَعْنَـٰقِهِمْ أَغْلَـٰلًا فَهِىَ إِلَى ٱلْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ﴿٨﴾
ہم نے اُن کی گردنوں میں طَوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں، اس لیے وہ سر اُٹھا ئے کھڑے ہیں۔ 1
—وَجَعَلْنَا مِنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَـٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴿٩﴾
ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، انہیں اب کچھ نہیں سُوجھتا۔ 1
—وَسَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴿١٠﴾
ان کے لیے یکساں ہے ، تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے۔ 1
—إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَ وَخَشِىَ ٱلرَّحْمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ﴿١١﴾
تم تو اُسی شخص کو خبردار کر سکتے ہی جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمان سے ڈرے اُسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو
—إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا۟ وَءَاثَـٰرَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ فِىٓ إِمَامٍ مُّبِينٍ﴿١٢﴾
ہم یقیناً ایک روز مُردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں ، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ 1 ہر چیز کو ہم نے ایک کھُلی کتاب میں درج کر رکھا ہے
—وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَـٰبَ ٱلْقَرْيَةِ إِذْ جَآءَهَا ٱلْمُرْسَلُونَ﴿١٣﴾
اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس میں رسُول آئے تھے۔ 1
—إِذْ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ﴿١٤﴾
ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہا "ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں"
—قَالُوا۟ مَآ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحْمَـٰنُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ﴿١٥﴾
بستی والوں نے کہا”تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان 1 ، اور خدائے رحمٰن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے 2 ، تم محض جھُوٹ بولتے ہو۔“
—قَالُوا۟ رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّآ إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ﴿١٦﴾
رسولوں نے کہا "ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں
—وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿١٧﴾
اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔ 1
—قَالُوٓا۟ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا۟ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿١٨﴾
بستی والے کہنے لگے”ہم تو تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ 1 اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاوٴگے۔“
—قَالُوا۟ طَـٰٓئِرُكُم مَّعَكُمْ ۚ أَئِن ذُكِّرْتُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ﴿١٩﴾
رسُولوں نے جواب دیا”تمہاری فالِ بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ 1 کیا یہ باتیں تم اِس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔“ 2
—وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱتَّبِعُوا۟ ٱلْمُرْسَلِينَ﴿٢٠﴾
اتنے میں شہر کے دُور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا "اے میری قوم کے لوگو، رسولوں کی پیروی اختیار کر لو
—ٱتَّبِعُوا۟ مَن لَّا يَسْـَٔلُكُمْ أَجْرًا وَهُم مُّهْتَدُونَ﴿٢١﴾
پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں۔ 1
—وَمَا لِىَ لَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِى فَطَرَنِى وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿٢٢﴾
آخر کیوں نہ میں اُس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے؟ 1
—ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدْنِ ٱلرَّحْمَـٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّى شَفَـٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا وَلَا يُنقِذُونِ﴿٢٣﴾
کیا میں اُسے چھوڑ کر دُوسرے معبُود بنا لوں؟ حالانکہ اگر خدائے رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ اُن کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھُڑا ہی سکتے ہیں۔ 1
—إِنِّىٓ إِذًا لَّفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ﴿٢٤﴾
اگر میں ایسا کروں 1 تو مین صریح گمراہی میں مُبتلا ہو جاوٴ گا
—إِنِّىٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمْ فَٱسْمَعُونِ﴿٢٥﴾
میں تو تمہارے ربّ پر ایمان لے آیا 1 ، تم بھی میری بات مان لو۔“
—قِيلَ ٱدْخُلِ ٱلْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَـٰلَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُونَ﴿٢٦﴾
(آخر کار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور)اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ”داخل ہو جاوٴ جنّت میں۔“ 1 اُس نے کہا”کاش میری قوم کو معلوم ہوتا
—بِمَا غَفَرَ لِى رَبِّى وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُكْرَمِينَ﴿٢٧﴾
کہ میرے ربّ نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرمادی اور مجھے با عزّت لوگوں میں داخل فرمایا۔“ 1
—۞ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِۦ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِن جُندٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ﴿٢٨﴾
اس کے بعد اُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی
—إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَـٰمِدُونَ﴿٢٩﴾
بس ایک دھماکا ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔ 1
—يَـٰحَسْرَةً عَلَى ٱلْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ﴿٣٠﴾
افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے
—أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ﴿٣١﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟ 1
—وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ﴿٣٢﴾
ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے
—وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلْأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَـٰهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ﴿٣٣﴾
1 اِن لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے 2۔ ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلّہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں
—وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـٰتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـٰبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ﴿٣٤﴾
ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر چشمے پھوڑ نکالے
—لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ﴿٣٥﴾
تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ 1 پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟ 2
—سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ﴿٣٦﴾
پاک وہ ذات 1 جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوعِ انسانی)میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں۔ 2
—وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ﴿٣٧﴾
اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اُوپر سے دِن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ 1
—وَٱلشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ﴿٣٨﴾
اور سُورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ 1 یہ زبر دست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے
—وَٱلْقَمَرَ قَدَّرْنَـٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلْعُرْجُونِ ٱلْقَدِيمِ﴿٣٩﴾
اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سُوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے۔ 1
—لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَهَآ أَن تُدْرِكَ ٱلْقَمَرَ وَلَا ٱلَّيْلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴿٤٠﴾
نہ سُورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے 1 اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ 2 سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ 3
—وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ﴿٤١﴾
اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے اِن کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا، 1
—وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِۦ مَا يَرْكَبُونَ﴿٤٢﴾
اور پھر اِن کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ 1
—وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ﴿٤٣﴾
ہم چاہیں تو اِن کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں
—إِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَـٰعًا إِلَىٰ حِينٍ﴿٤٤﴾
بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت ِ خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقع دیتی ہے۔ 1
—وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُوا۟ مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴿٤٥﴾
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے 1 ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سُنی اَن سُنی کر جاتے ہیں)
—وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍ مِّنْ ءَايَـٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ﴿٤٦﴾
اِن کے سامنے اِن کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔ 1
—وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ﴿٤٧﴾
اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ”کیا ہم اُن کو کھِلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھِلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو۔“ 1
—وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴿٤٨﴾
1 یہ لوگ کہتے ہیں کہ”یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پُوری ہوگی؟ بتاوٴ اگر تم سچے ہو۔“ 2
—مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ﴿٤٩﴾
دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک اِنہیں عین اُس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑ رہے ہوں گے
—فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَآ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ﴿٥٠﴾
اور اُس وقت یہ وصیّت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔ 1
—