Sâffât
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلصَّـٰٓفَّـٰتِ صَفًّا﴿١﴾
قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم
—فَٱلزَّٰجِرَٰتِ زَجْرًا﴿٢﴾
پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں
—فَٱلتَّـٰلِيَـٰتِ ذِكْرًا﴿٣﴾
پھر اُن کی قسم جو کلامِ نصیحت سُنانے والے ہیں، 1
—إِنَّ إِلَـٰهَكُمْ لَوَٰحِدٌ﴿٤﴾
تمہارا معبُودِ حقیقی بس ایک ہی ہے 1
—رَّبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ ٱلْمَشَـٰرِقِ﴿٥﴾
وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں 1 کا مالک۔ 2
—إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِزِينَةٍ ٱلْكَوَاكِبِ﴿٦﴾
ہم نے آسمانِ 1 دُنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے
—وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَـٰنٍ مَّارِدٍ﴿٧﴾
اور ہر شیطانِ سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے۔ 1
—لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى ٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ﴿٨﴾
یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں
—دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ﴿٩﴾
اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے
—إِلَّا مَنْ خَطِفَ ٱلْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴿١٠﴾
تا ہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اُڑے تو ایک تیز شُعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ 1
—فَٱسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآ ۚ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍۭ﴿١١﴾
اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ 1 اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ 2
—بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ﴿١٢﴾
تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں
—وَإِذَا ذُكِّرُوا۟ لَا يَذْكُرُونَ﴿١٣﴾
سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے
—وَإِذَا رَأَوْا۟ ءَايَةً يَسْتَسْخِرُونَ﴿١٤﴾
کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں
—وَقَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴿١٥﴾
اورکہتے ہیں”یہ تو صریح جادُو ہے، 1
—أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَـٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ﴿١٦﴾
بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھا کھڑے کیے جائیں؟
—أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ﴿١٧﴾
اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آبا و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے؟"
—قُلْ نَعَمْ وَأَنتُمْ دَٰخِرُونَ﴿١٨﴾
اِن سے کہوہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔ 1
—فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَٰحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنظُرُونَ﴿١٩﴾
بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے۔ 1
—وَقَالُوا۟ يَـٰوَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ﴿٢٠﴾
اُس وقت یہ کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے"
—هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ﴿٢١﴾
یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔“ 1
—۞ ٱحْشُرُوا۟ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَأَزْوَٰجَهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ﴿٢٢﴾
(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ سب ظالموں 1 اور ان کے ساتھیوں 2 اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے 3
—مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْجَحِيمِ﴿٢٣﴾
پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ
—وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْـُٔولُونَ﴿٢٤﴾
اور ذرا اِنہیں ٹھیراؤ، اِن سے کچھ پوچھنا ہے
—مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ﴿٢٥﴾
"کیا ہو گیا تمہیں، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
—بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ﴿٢٦﴾
ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ 1
—وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ﴿٢٧﴾
اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے
—قَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ ٱلْيَمِينِ﴿٢٨﴾
(پیروی کرنے والے اپنے پیشواوٴں سے)کہیں گے،”تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔“ 1
—قَالُوا۟ بَل لَّمْ تَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ﴿٢٩﴾
وہ جواب دیں گے، "نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے
—وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَـٰنٍۭ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَـٰغِينَ﴿٣٠﴾
ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے
—فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ ۖ إِنَّا لَذَآئِقُونَ﴿٣١﴾
آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں
—فَأَغْوَيْنَـٰكُمْ إِنَّا كُنَّا غَـٰوِينَ﴿٣٢﴾
سو ہم نے تم کو بہکایا، ہم خود بہکے ہوئے تھے۔“ 1
—فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ﴿٣٣﴾
اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔ 1
—إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ﴿٣٤﴾
ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں
—إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ﴿٣٥﴾
یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے" تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے
—وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍۭ﴿٣٦﴾
اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"
—بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلْمُرْسَلِينَ﴿٣٧﴾
حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔ 1
—إِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا۟ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَلِيمِ﴿٣٨﴾
(اب ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو
—وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴿٣٩﴾
اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو
—إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ﴿٤٠﴾
مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے
—أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ﴿٤١﴾
ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے، 1
—فَوَٰكِهُ ۖ وَهُم مُّكْرَمُونَ﴿٤٢﴾
ہر طرح کی لذیذ چیزیں۔ 1
—فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ﴿٤٣﴾
اور نعمت بھری جنتیں
—عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَـٰبِلِينَ﴿٤٤﴾
جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے
—يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍۭ﴿٤٥﴾
شراب 1 کے چشموں 2 سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے
—بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّـٰرِبِينَ﴿٤٦﴾
چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہو گی
—لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ﴿٤٧﴾
نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی۔ 1
—وَعِندَهُمْ قَـٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ عِينٌ﴿٤٨﴾
اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، 1 خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی، 2
—كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ﴿٤٩﴾
ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھُپی ہوئی جھِلی۔ 1
—فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ﴿٥٠﴾
پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے
—