Sâd
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
صٓ ۚ وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ﴿١﴾
ص، 1 قسم ہے نصیحت بھرے 2 قرآن کی
—بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴿٢﴾
بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبُّر اور ضِد میں مبتلا ہیں۔ 1
—كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا۟ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴿٣﴾
اِن سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور جب اُن کی شامت آئی ہے) تو وہ چیخ اٹھے ہیں، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا
—وَعَجِبُوٓا۟ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ ٱلْكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا سَـٰحِرٌ كَذَّابٌ﴿٤﴾
اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجّب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا۔ 1 منکرین کہنے لگے کہ ”یہ ساحِر ہے 2 ، سخت جھُوٹا ہے
—أَجَعَلَ ٱلْـَٔالِهَةَ إِلَـٰهًا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ﴿٥﴾
کیا اِس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"
—وَٱنطَلَقَ ٱلْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ ٱمْشُوا۟ وَٱصْبِرُوا۟ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ﴿٦﴾
اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نِکل گئے 1 کہ ”چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر۔ یہ بات 2 تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ 3
—مَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِى ٱلْمِلَّةِ ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا ٱخْتِلَـٰقٌ﴿٧﴾
یہ بات ہم نے زمانہٴ قریب کی مِلّت میں کسی سے نہیں سُنی۔ 1 یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات
—أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّن ذِكْرِى ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ﴿٨﴾
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟“اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ”ذِکر“ پر شک کر رہے ہیں، 1 اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نےمیرے عذاب کا مزا چکھّا نہیں ہے
—أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ ٱلْعَزِيزِ ٱلْوَهَّابِ﴿٩﴾
کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟
—أَمْ لَهُم مُّلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا۟ فِى ٱلْأَسْبَـٰبِ﴿١٠﴾
کیا یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں؟ اچھا تو یہ عالمِ اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کر دیکھیں! 1
—جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ ٱلْأَحْزَابِ﴿١١﴾
یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہےجو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے۔ 1
—كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ﴿١٢﴾
اِن سے پہلے نوح ؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون 1
—وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَـٰبُ لْـَٔيْكَةِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ﴿١٣﴾
اور ثمود، اور قوم لوط، اور اَیکہ والے جھٹلا چکے ہیں جتھے وہ تھے
—إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴿١٤﴾
ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا
—وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ﴿١٥﴾
یہ لوگ بھی بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکا نہ ہوگا۔ 1
—وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ﴿١٦﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ، یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلدی سے دے دے۔ 1
—ٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلْأَيْدِ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ﴿١٧﴾
اے نبیؐ ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، 1 اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داوٴدؑ کا قصّہ بیان کرو 2 جو بڑی قوّتوں کا مالک تھا۔ 3 ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا تھا
—إِنَّا سَخَّرْنَا ٱلْجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحْنَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِشْرَاقِ﴿١٨﴾
ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے
—وَٱلطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَّهُۥٓ أَوَّابٌ﴿١٩﴾
پرندے سِمٹ آتے اور سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجّہ ہو جاتے تھے۔ 1
—وَشَدَدْنَا مُلْكَهُۥ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْحِكْمَةَ وَفَصْلَ ٱلْخِطَابِ﴿٢٠﴾
ہم نے اس کی سلطنت مضبُوط کر دی تھی، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کُن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ 1
—۞ وَهَلْ أَتَىٰكَ نَبَؤُا۟ ٱلْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا۟ ٱلْمِحْرَابَ﴿٢١﴾
پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے اُن مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اُس کے بالاخانے میں گھُس آئے تھے؟ 1
—إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَٱحْكُم بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَٱهْدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ﴿٢٢﴾
جب وہ داوٴد ؑ کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ 1 انہوں نے کہا”ڈریے نہیں، ہم دو فریقِ مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دُوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجیے، بے انصافی نہ کیجیے اور ہمیں راہِ راست بتائیے
—إِنَّ هَـٰذَآ أَخِى لَهُۥ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِىَ نَعْجَةٌ وَٰحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِى فِى ٱلْخِطَابِ﴿٢٣﴾
یہ میرا بھائی ہے، 1 اِس کے پاس ننّانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا۔“ 2
—قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩﴿٢٤﴾
داوٴدؑ نے جواب دیا”اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا ، 1 اور واقعہ یہ ہے کہ مِل جُل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دُوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں ، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔“ (یہ بات کہتے کہتے)داوٴدؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اُس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اس نے اپنے ربّ سے معافی مانگی اور سجدے میں گِر گیا اور رُجوع کر لیا۔ 2
—فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ﴿٢٥﴾
تب ہم نے اس کا وہ قصُور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ 1
—يَـٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَـٰكَ خَلِيفَةً فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ﴿٢٦﴾
(ہم نے اس سے کہا)”اے داوٴدؑ ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تُو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھُول گئے۔“ 1
—وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـٰطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ﴿٢٧﴾
ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کی درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے۔ 1 یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کُفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنّم کی آگ سے
—أَمْ نَجْعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ كَٱلْمُفْسِدِينَ فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ ٱلْمُتَّقِينَ كَٱلْفُجَّارِ﴿٢٨﴾
کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کر دیں؟ کیا متّقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں؟ 1
—كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ مُبَـٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَـٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ﴿٢٩﴾
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب 1 ہے جو (اے محمدؐ)ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں
—وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَـٰنَ ۚ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ﴿٣٠﴾
اور داوٴدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا)عطا کیا، 1 بہترین بندہ، کثرت سے اپنے ربّ کی طرف رُجوع کرنے والا
—إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِٱلْعَشِىِّ ٱلصَّـٰفِنَـٰتُ ٱلْجِيَادُ﴿٣١﴾
قابلِ ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس کے سامنے خوب سدھے ہوئے تیز رَو گھوڑے پیش کیے گئے 1
—فَقَالَ إِنِّىٓ أَحْبَبْتُ حُبَّ ٱلْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّى حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِٱلْحِجَابِ﴿٣٢﴾
تو اس نے کہا”میں نے اس مال 1 کی محبّت اپنے ربّ کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے۔“ یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے
—رُدُّوهَا عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ﴿٣٣﴾
تو (اس نے حکم دیا کہ)انہیں میرے پاس واپس لاوٴ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے۔ 1
—وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـٰنَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِۦ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴿٣٤﴾
اور (دیکھو کہ) سلیمانؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا
—قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكًا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٍ مِّنۢ بَعْدِىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ﴿٣٥﴾
اور کہا کہ”اے میرے ربّ ، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بے شک تُو ہی اصل داتا ہے۔“ 1
—فَسَخَّرْنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِۦ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ﴿٣٦﴾
تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا
—وَٱلشَّيَـٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ﴿٣٧﴾
اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور
—وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ﴿٣٨﴾
اور دُوسرے جو پابندِ سلاسل تھے۔ 1
—هَـٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴿٣٩﴾
(ہم نے اُس سے کہا)”یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں۔“ 1
—وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ﴿٤٠﴾
یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ 1
—وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ﴿٤١﴾
اور ہمارے بندے ایّوبؑ کا ذکر کرو، 1 جب اس نے اپنے ربّ کو پُکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے۔ 2
—ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴿٤٢﴾
(ہم نے اُسے حکم دیا)اپنا پاوٴں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے۔ 1
—وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ﴿٤٣﴾
ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اُتنے ہی اور 1 ، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ 2
—وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَـٰهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ﴿٤٤﴾
(اور ہم نے اس سے کہا)تِنکوں کا ایک مُٹّھا لے اور اُس سے مار دے، اپنی قسم نہ توڑ۔ 1 ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رُجوع کرنے والا۔ 2
—وَٱذْكُرْ عِبَـٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَـٰرِ﴿٤٥﴾
اور ہمارے بندوں ، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو۔ بڑی قوّتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ 1
—إِنَّآ أَخْلَصْنَـٰهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى ٱلدَّارِ﴿٤٦﴾
ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔ 1
—وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ ٱلْمُصْطَفَيْنَ ٱلْأَخْيَارِ﴿٤٧﴾
یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے
—وَٱذْكُرْ إِسْمَـٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ﴿٤٨﴾
اور اسماعیلؑ اور اَلیَسیع 1 اور ذوالکِفل 2 کا ذکر کرو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
—هَـٰذَا ذِكْرٌ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍ﴿٤٩﴾
یہ ایک ذکر تھا (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے
—جَنَّـٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ ٱلْأَبْوَٰبُ﴿٥٠﴾
ہمیشہ رہنے والی جنّتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے۔ 1
—