Fussilet
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
حمٓ﴿١﴾
ح م
—تَنزِيلٌ مِّنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ﴿٢﴾
یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے
—كِتَـٰبٌ فُصِّلَتْ ءَايَـٰتُهُۥ قُرْءَانًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴿٣﴾
ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
—بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ﴿٤﴾
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ 1 مگر اِن لوگوں میں سے اکثر نے اس سے رُو گردانی کی اور وہ سُن کر نہیں دیتے
—وَقَالُوا۟ قُلُوبُنَا فِىٓ أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ وَفِىٓ ءَاذَانِنَا وَقْرٌ وَمِنۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَٱعْمَلْ إِنَّنَا عَـٰمِلُونَ﴿٥﴾
کہتے ہیں”جس چیز کی طرف تُو ہمیں بُلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، 1 ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے۔ 2 تُو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جائیں گے۔“ 3
—قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَٰحِدٌ فَٱسْتَقِيمُوٓا۟ إِلَيْهِ وَٱسْتَغْفِرُوهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ﴿٦﴾
اے نبی ؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ 1 مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے 2 ، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رُخ اختیار کرو 3 اور اس سے معافی چاہو۔ 4 تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے
—ٱلَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ﴿٧﴾
جو زکوٰة نہیں دیتے 1 اور آخرت کے منکر ہیں
—إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴿٨﴾
رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک اعمال کیے، اُن کے لیے یقیناً ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ 1
—۞ قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَرْضَ فِى يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥٓ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿٩﴾
اے نبیؐ! اِن سے کہو، کیا تم اُس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اُس کا ہمسر ٹھیراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنا دیا؟ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے
—وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِىَ مِن فَوْقِهَا وَبَـٰرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَآ أَقْوَٰتَهَا فِىٓ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِينَ﴿١٠﴾
اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد)اوپر سے اس پر پہاڑ جمادیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں 1 اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیّا کر دیا۔ 2 یہ سب کام چار دن میں ہو گئے۔ 3
—ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ٱئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَآ أَتَيْنَا طَآئِعِينَ﴿١١﴾
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ 1 اُس نے آسمان اور زمین سے کہا”وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔“ دونوں نے کہا”ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح۔“ 2
—فَقَضَىٰهُنَّ سَبْعَ سَمَـٰوَاتٍ فِى يَوْمَيْنِ وَأَوْحَىٰ فِى كُلِّ سَمَآءٍ أَمْرَهَا ۚ وَزَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِمَصَـٰبِيحَ وَحِفْظًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ﴿١٢﴾
تب اُس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیے، اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کر دیا۔ 1 یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصُوبہ ہے
—فَإِنْ أَعْرَضُوا۟ فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَـٰعِقَةً مِّثْلَ صَـٰعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴿١٣﴾
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں 1 تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا
—إِذْ جَآءَتْهُمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ قَالُوا۟ لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَـٰٓئِكَةً فَإِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ﴿١٤﴾
جب خدا کے رسُول اُن کے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے 1 اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا”ہمارا ربّ چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو۔“ 2
—فَأَمَّا عَادٌ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَقَالُوا۟ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَجْحَدُونَ﴿١٥﴾
عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے "کون ہے ہم سے زیادہ زور آور" اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے
—فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِىٓ أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَخْزَىٰ ۖ وَهُمْ لَا يُنصَرُونَ﴿١٦﴾
آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ 1 تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلّت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، 2 اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رُسوا کُن ہے ، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا
—وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـٰهُمْ فَٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْعَمَىٰ عَلَى ٱلْهُدَىٰ فَأَخَذَتْهُمْ صَـٰعِقَةُ ٱلْعَذَابِ ٱلْهُونِ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ﴿١٧﴾
رہے ثمود، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنا رہنا پسند کیا آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا
—وَنَجَّيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ﴿١٨﴾
اور ہم نے اُن لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے پرہیز کرتے تھے۔ 1
—وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَآءُ ٱللَّهِ إِلَى ٱلنَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ﴿١٩﴾
اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ 1 اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا، 2
—حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَـٰرُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ﴿٢٠﴾
پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ 1
—وَقَالُوا۟ لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوٓا۟ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنطَقَ كُلَّ شَىْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿٢١﴾
وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے”تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی”ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔ 1 اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو
—وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ أَبْصَـٰرُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ﴿٢٢﴾
تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے
—وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِى ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَىٰكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ﴿٢٣﴾
تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔“ 1
—فَإِن يَصْبِرُوا۟ فَٱلنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ ۖ وَإِن يَسْتَعْتِبُوا۟ فَمَا هُم مِّنَ ٱلْمُعْتَبِينَ﴿٢٤﴾
اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں)آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا۔ 1
—۞ وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَـٰسِرِينَ﴿٢٥﴾
ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلّط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما کر دکھاتے تھے، 1 آخر کا ر اُن پر بھی وہی فیصلہٴ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جِنّوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناًوہ خسارے میں رہ جانے والے تھے
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَا تَسْمَعُوا۟ لِهَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ﴿٢٦﴾
یہ منکرینِ حق کہتے ہیں”اِس قرآن کو ہرگز نہ سُنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاوٴ۔“ 1
—فَلَنُذِيقَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَذَابًا شَدِيدًا وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَسْوَأَ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ﴿٢٧﴾
اِن کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ اِنہیں دیں گے
—ذَٰلِكَ جَزَآءُ أَعْدَآءِ ٱللَّهِ ٱلنَّارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا دَارُ ٱلْخُلْدِ ۖ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَجْحَدُونَ﴿٢٨﴾
وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِن کا گھر ہو گا یہ ہے سزا اِس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے
—وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلْأَسْفَلِينَ﴿٢٩﴾
وہاں یہ کافر کہیں گے کہ ”اے ہمارے ربّ، ذرا ہمیں دکھا دے اُن جِنّوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں پاوٴں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں۔“ 1
—إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ﴿٣٠﴾
1 جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، 2 یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں 3 اور ان سے کہتے ہیں کہ”نہ ڈرو، نہ غم کرو، 4 اور خوش ہو جاوٴ اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے
—نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىٓ أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ﴿٣١﴾
ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی
—نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ﴿٣٢﴾
یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے"
—وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا وَقَالَ إِنَّنِى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ﴿٣٣﴾
اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بُلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ 1
—وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌ﴿٣٤﴾
اور اے نبیؐ ،نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ 1
—وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴿٣٥﴾
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، 1 اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ 2
—وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ نَزْغٌ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ﴿٣٦﴾
اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسُوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، 1 وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔ 2
—وَمِنْ ءَايَـٰتِهِ ٱلَّيْلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا۟ لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴿٣٧﴾
1 اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سُورج اور چاند۔ 2 سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ 3
—فَإِنِ ٱسْتَكْبَرُوا۟ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْـَٔمُونَ ۩﴿٣٨﴾
لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اَڑے رہیں 1 تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے ربّ کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔ 2
—وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلْأَرْضَ خَـٰشِعَةً فَإِذَآ أَنزَلْنَا عَلَيْهَا ٱلْمَآءَ ٱهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ إِنَّ ٱلَّذِىٓ أَحْيَاهَا لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰٓ ۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ﴿٣٩﴾
اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سُونی پڑی ہوئی ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پَھبَک اُٹھتی ہے اور پھُول جاتی ہے۔ یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جِلا اُٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ 1 یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
—إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَآ ۗ أَفَمَن يُلْقَىٰ فِى ٱلنَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِىٓ ءَامِنًا يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ ٱعْمَلُوا۟ مَا شِئْتُمْ ۖ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿٤٠﴾
1 جو لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں 2 وہ ہم سے کچھ چھُپے ہوئے نہیں ہیں۔ 3 خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا ؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے
—إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِٱلذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ ۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَـٰبٌ عَزِيزٌ﴿٤١﴾
یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلامِ نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے،1
—لَّا يَأْتِيهِ ٱلْبَـٰطِلُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِۦ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴿٤٢﴾
باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے،1 یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کر دہ چیز ہے
—مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ﴿٤٣﴾
اے نبیؐ ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسُولوں سے نہ کہی جا چکی ہو۔ بے شک تمہارا ربّ بڑا درگزر کرنے والا ہے،1 اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے
—وَلَوْ جَعَلْنَـٰهُ قُرْءَانًا أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوا۟ لَوْلَا فُصِّلَتْ ءَايَـٰتُهُۥٓ ۖ ءَا۬عْجَمِىٌّ وَعَرَبِىٌّ ۗ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هُدًى وَشِفَآءٌ ۖ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ﴿٤٤﴾
اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے”کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطِب عربی۔“1 اِن سے کہو ، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتےاُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دُور سے پکارا جا رہا ہو۔ 2
—وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ﴿٤٥﴾
اس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتا ب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا۔1 اگر تیرے ربّ نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چُکا دیا جاتا۔2 اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔3
—مَّنْ عَمِلَ صَـٰلِحًا فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا ۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـٰمٍ لِّلْعَبِيدِ﴿٤٦﴾
جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اُس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور تیرا ربّ اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔1
—۞ إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِن ثَمَرَٰتٍ مِّنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَآءِى قَالُوٓا۟ ءَاذَنَّـٰكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٍ﴿٤٧﴾
اُس ساعت 1 کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، 2 وہی اُن سارے پھَلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اُسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے۔ 3 پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، ”ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔“ 4
—وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَدْعُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَظَنُّوا۟ مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ﴿٤٨﴾
اُس وقت وہ سارے معبُود ان سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اِس سے پہلے پُکارتے تھے، 1 اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے
—لَّا يَسْـَٔمُ ٱلْإِنسَـٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٌ قَنُوطٌ﴿٤٩﴾
انسان کبھی بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا، 1 اور جب کوئی آفت اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے
—وَلَئِنْ أَذَقْنَـٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِى وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّىٓ إِنَّ لِى عِندَهُۥ لَلْحُسْنَىٰ ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ﴿٥٠﴾
مگر جونہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں ، یہ کہتا ہے کہ”میں اِسی کا مستحق ہوں، 1 اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن اگر واقعی میں اپنے ربّ کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا۔“ حالانکہ کُفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے
—