36:28اس کے بعد اُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی
36:29بس ایک دھماکا ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔ 1
36:30افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے
36:31کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟ 1
36:32ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے
36:331 اِن لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے 2۔ ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلّہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں
36:34ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر چشمے پھوڑ نکالے
36:35تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ 1 پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟ 2
36:36پاک وہ ذات 1 جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوعِ انسانی)میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں۔ 2
36:37اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اُوپر سے دِن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ 1
36:38اور سُورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ 1 یہ زبر دست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے
36:39اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سُوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے۔ 1
36:40نہ سُورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے 1 اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ 2 سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ 3