Şuarâ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
طسٓمٓ﴿١﴾
ط س م
—تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ﴿٢﴾
یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔ 1
—لَعَلَّكَ بَـٰخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ﴿٣﴾
اے محمدؐ ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 1
—إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـٰقُهُمْ لَهَا خَـٰضِعِينَ﴿٤﴾
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جُھک جائیں۔ 1
—وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهُ مُعْرِضِينَ﴿٥﴾
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
—فَقَدْ كَذَّبُوا۟ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنۢبَـٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ﴿٦﴾
اب کہ یہ جھُٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے)معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔ 1
—أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلْأَرْضِ كَمْ أَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ﴿٧﴾
اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟
—إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ﴿٨﴾
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے 1 ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
—وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿٩﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ 1
—وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئْتِ ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ﴿١٠﴾
اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ تمہارے ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا”1 ظالم قوم کے پاس جا
—قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ﴿١١﴾
فرعون کی قوم کے پاس 1۔۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“ 2
—قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ﴿١٢﴾
اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
—وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَـٰرُونَ﴿١٣﴾
میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔ 1
—وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنۢبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ﴿١٤﴾
اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 1
—قَالَ كَلَّا ۖ فَٱذْهَبَا بِـَٔايَـٰتِنَآ ۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ﴿١٥﴾
فرمایا”ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر 1 ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے
—فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿١٦﴾
فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے
—أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ﴿١٧﴾
کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“ 1
—قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ﴿١٨﴾
فرعون نے کہا”کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ 1 تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے
—وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ ٱلَّتِى فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ﴿١٩﴾
اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا 1 ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔“
—قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذًا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ﴿٢٠﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا”اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔ 1
—فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْمًا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ﴿٢١﴾
پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا 1 اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا
—وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ﴿٢٢﴾
رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“ 1
—قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿٢٣﴾
فرعون نے کہا 1 ”اور یہ ربّ العالمین کیا ہوتا ہے؟“ 2
—قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ﴿٢٤﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا”آسمانوں اور زمین کا ربّ، اور اُن سب چیزوں کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو۔“ 1
—قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ﴿٢٥﴾
فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"
—قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ﴿٢٦﴾
موسیٰؑ نے کہا”تمہارا ربّ بھی اور تمہارے اُن آباوٴ اجداد کا ربّ بھی جو گزر چکے ہیں۔“ 1
—قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ﴿٢٧﴾
فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"
—قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ﴿٢٨﴾
موسیٰؑ نے کہا”مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا ربّ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔“ 1
—قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ﴿٢٩﴾
فرعون نے کہا”اگر تُو نے میرے سوا کسی اور کو معبُود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔“ 1
—قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍ مُّبِينٍ﴿٣٠﴾
موسیٰؑ نے کہا”اگر چہ میں لے آوٴں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟“ 1
—قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ﴿٣١﴾
فرعون نے کہا”اچھا تو لے آ اگر تُو سچا ہے۔ 1“
—فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ﴿٣٢﴾
(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی)موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا۔ 1
—وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ﴿٣٣﴾
پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے)کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ 1
—قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُۥٓ إِنَّ هَـٰذَا لَسَـٰحِرٌ عَلِيمٌ﴿٣٤﴾
فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے
—يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِۦ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ﴿٣٥﴾
چاہتا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ 1 اب بتاوٴ تم کیا حکم دیتے ہو؟“ 2
—قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَٱبْعَثْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَـٰشِرِينَ﴿٣٦﴾
انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے
—يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ﴿٣٧﴾
کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"
—فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَـٰتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ﴿٣٨﴾
چنانچہ ایک روز مقرر وقت 1 پر جادُو گر اکٹھے کر لیے گئے
—وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُم مُّجْتَمِعُونَ﴿٣٩﴾
اور لوگوں سے کہا گیا”تم اجتماع میں چلو گے؟ 1
—لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَـٰلِبِينَ﴿٤٠﴾
شاید کہ ہم جادُوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔“ 1
—فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُوا۟ لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَـٰلِبِينَ﴿٤١﴾
جب جادُو گر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا”ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟“ 1
—قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَّمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ﴿٤٢﴾
اس نے کہا”ہاں، اور تم تو اس وقت مقربّین میں شامل ہو جاوٴ گے۔“ 1
—قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ﴿٤٣﴾
موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"
—فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ ٱلْغَـٰلِبُونَ﴿٤٤﴾
انہوں نے فوراً اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے”فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔“ 1
—فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ﴿٤٥﴾
پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا
—فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَـٰجِدِينَ﴿٤٦﴾
اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے
—قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿٤٧﴾
اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو
—رَبِّ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ﴿٤٨﴾
موسیٰؑ اور ہارونؑ کے ربّ کو۔“ 1
—قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَـٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ﴿٤٩﴾
فرعون نے کہا”تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادُو سکھایا ہے۔ 1 اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواوٴں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا۔“ 2
—قَالُوا۟ لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ﴿٥٠﴾
انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے
—