Duhân
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
حمٓ﴿١﴾
ح م
—وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ﴿٢﴾
قسم ہے اِس کتاب مبین کی
—إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةٍ مُّبَـٰرَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ﴿٣﴾
کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبّہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔1
—فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴿٤﴾
یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ 1
—أَمْرًا مِّنْ عِندِنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴿٥﴾
ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے۔1 ہم ایک رسُول بھیجنے والے تھے
—رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ﴿٦﴾
تیرے ربّ کی رحمت کے طو ر پر۔1 یقیناً وہی سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے،2
—رَبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ﴿٧﴾
آسمانوں اور زمین کا ربّ اور ہر اُس چیز کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔1
—لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ﴿٨﴾
کوئی معبُود اُس کے سوا نہیں ہے۔1 وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔2 تمہارا ربّ اور تمہارے اُن اسلاف کا ربّ جو پہلے گزر چکے ہیں۔3
—بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ يَلْعَبُونَ﴿٩﴾
(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے)بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔1
—فَٱرْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ﴿١٠﴾
اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا
—يَغْشَى ٱلنَّاسَ ۖ هَـٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿١١﴾
اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے درد ناک سزا
—رَّبَّنَا ٱكْشِفْ عَنَّا ٱلْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ﴿١٢﴾
(اب کہتے ہیں کہ) " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں"
—أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ﴿١٣﴾
اِن کی غفلت کہاں دُور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسُولِ مُبین آگیا1
—ثُمَّ تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَقَالُوا۟ مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ﴿١٤﴾
پھر بھی یہ اُس کی طرف مُلتفت نہ ہوئے اور کہا کہ ”یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے۔“1
—إِنَّا كَاشِفُوا۟ ٱلْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ﴿١٥﴾
ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے
—يَوْمَ نَبْطِشُ ٱلْبَطْشَةَ ٱلْكُبْرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴿١٦﴾
جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے۔1
—۞ وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ﴿١٧﴾
ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں۔ اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسُول1 آیا
—أَنْ أَدُّوٓا۟ إِلَىَّ عِبَادَ ٱللَّهِ ۖ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ﴿١٨﴾
اور اس نے کہا”1اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو،2 میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسُول ہوں۔3
—وَأَن لَّا تَعْلُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ۖ إِنِّىٓ ءَاتِيكُم بِسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ﴿١٩﴾
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے (اپنی مامُوریّت کی)صریح سَنَد پیش کرتا ہوں۔1
—وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ﴿٢٠﴾
اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو
—وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ لِى فَٱعْتَزِلُونِ﴿٢١﴾
اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو۔“1
—فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ﴿٢٢﴾
آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔1
—فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ﴿٢٣﴾
(جواب دیا گیا)”اچھا تُو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ۔1 تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ 2
—وَٱتْرُكِ ٱلْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ﴿٢٤﴾
سمندر کو اس حال پر کھلا چھوڑ دے۔ یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے۔“1
—كَمْ تَرَكُوا۟ مِن جَنَّـٰتٍ وَعُيُونٍ﴿٢٥﴾
" کتنے ہی باغ اور چشمے
—وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ﴿٢٦﴾
اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے
—وَنَعْمَةٍ كَانُوا۟ فِيهَا فَـٰكِهِينَ﴿٢٧﴾
کتنے ہی عیش کے سر و سامان، جن میں وہ مزے کر رہے تھے اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے
—كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَثْنَـٰهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ﴿٢٨﴾
یہ ہُوا اُن کا انجام، اور ہم نے دُوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنا دیا۔1
—فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ وَمَا كَانُوا۟ مُنظَرِينَ﴿٢٩﴾
پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین ،1 اور ذرا سی مہلت بھی اُن کو نہ دی گئی
—وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ﴿٣٠﴾
اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلّت کے عذاب ،1
—مِن فِرْعَوْنَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيًا مِّنَ ٱلْمُسْرِفِينَ﴿٣١﴾
فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اُونچے درجے کا آدمی تھا،1
—وَلَقَدِ ٱخْتَرْنَـٰهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿٣٢﴾
اور اُن کی حالت جانتے ہوئے اُن کو دنیا کی دُوسری قوموں پر ترجیح دی،1
—وَءَاتَيْنَـٰهُم مِّنَ ٱلْـَٔايَـٰتِ مَا فِيهِ بَلَـٰٓؤٌا۟ مُّبِينٌ﴿٣٣﴾
اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی۔1
—إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ﴿٣٤﴾
یہ لوگ کہتے ہیں
—إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ﴿٣٥﴾
ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں، اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔1
—فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴿٣٦﴾
اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ دادا کو۔“1
—أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَـٰهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ﴿٣٧﴾
یہ بہتر ہیں یا تُبع کی قوم1 اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مُجرم ہوگئے تھے۔2
—وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَـٰعِبِينَ﴿٣٨﴾
یہ آسمان و زمین اور اِن کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں
—مَا خَلَقْنَـٰهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴿٣٩﴾
اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔1
—إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ مِيقَـٰتُهُمْ أَجْمَعِينَ﴿٤٠﴾
اِن سب کے اُٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے،1
—يَوْمَ لَا يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْـًٔا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ﴿٤١﴾
وہ دن جب کوئی عزیزِ قریب اپنے کسی عزیزِ قریب1 کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئٰ مدد پہنچے گی
—إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿٤٢﴾
سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے۔1
—إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ﴿٤٣﴾
زَقّوم کا درخت1
—طَعَامُ ٱلْأَثِيمِ﴿٤٤﴾
گناہ گار کا کھاجا ہوگا
—كَٱلْمُهْلِ يَغْلِى فِى ٱلْبُطُونِ﴿٤٥﴾
تیل کی تلچھٹ1 جیسا، پیٹ میں اِس طرح جوش کھائے گا
—كَغَلْىِ ٱلْحَمِيمِ﴿٤٦﴾
جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے
—خُذُوهُ فَٱعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ﴿٤٧﴾
" پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جاؤ اِس کو جہنم کے بیچوں بیچ
—ثُمَّ صُبُّوا۟ فَوْقَ رَأْسِهِۦ مِنْ عَذَابِ ٱلْحَمِيمِ﴿٤٨﴾
اور انڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب
—ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْكَرِيمُ﴿٤٩﴾
چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تُو
—إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمْتَرُونَ﴿٥٠﴾
یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"
—