Nebe'
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ﴿١﴾
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
—عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ﴿٢﴾
کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں
—ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ﴿٣﴾
جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ 1
—كَلَّا سَيَعْلَمُونَ﴿٤﴾
ہر گز نہیں، 1 عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
—ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ﴿٥﴾
ہاں، ہر گز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ 1
—أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًا﴿٦﴾
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا، 1
—وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًا﴿٧﴾
اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا، 1
—وَخَلَقْنَـٰكُمْ أَزْوَٰجًا﴿٨﴾
اور تمہیں(مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا، 1
—وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا﴿٩﴾
اور تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا، 1
—وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًا﴿١٠﴾
اور رات کو پردہ پوش
—وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًا﴿١١﴾
اور دن کو معاش کا وقت بنایا، 1
—وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا﴿١٢﴾
اور تمہارے اوپر سات مضبُوط آسمان قائم کیے، 1
—وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا﴿١٣﴾
اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا، 1
—وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا﴿١٤﴾
اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی
—لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّا وَنَبَاتًا﴿١٥﴾
تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی
—وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا﴿١٦﴾
اور گھنے باغ اُگائیں؟ 1
—إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا﴿١٧﴾
بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے
—يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا﴿١٨﴾
جس روز صور میں پھُونک ما ر دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آوٴ گے۔ 1
—وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا﴿١٩﴾
اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا
—وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا﴿٢٠﴾
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ 1
—إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا﴿٢١﴾
در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے، 1
—لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا﴿٢٢﴾
سرکشوں کا ٹھکانا
—لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا﴿٢٣﴾
جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے۔ 1
—لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا﴿٢٤﴾
اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے
—إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا﴿٢٥﴾
کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون،1
—جَزَآءً وِفَاقًا﴿٢٦﴾
(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ
—إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًا﴿٢٧﴾
وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے
—وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًا﴿٢٨﴾
اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا، 1
—وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًا﴿٢٩﴾
اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی۔ 1
—فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا﴿٣٠﴾
اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے
—إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا﴿٣١﴾
یقیناً متّقیوں 1 کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے
—حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًا﴿٣٢﴾
باغ اور انگور
—وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا﴿٣٣﴾
اور نوخیز ہم سن لڑکیاں، 1
—وَكَأْسًا دِهَاقًا﴿٣٤﴾
اور چھلکتے ہوئے جام
—لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّٰبًا﴿٣٥﴾
وہاں کوئی لغو اور جھُوٹی بات وہ نہ سُنیں گے۔ 1
—جَزَآءً مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا﴿٣٦﴾
جزا ء اور کافی انعام 1 تمہارے ربّ کی طرف سے
—رَّبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا﴿٣٧﴾
اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔1
—يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴿٣٨﴾
جس روز رُوح 1 اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ 2
—ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا﴿٣٩﴾
وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے
—إِنَّآ أَنذَرْنَـٰكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَـٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا﴿٤٠﴾
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ 1 جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔ 2
—