Mürselât
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلْمُرْسَلَـٰتِ عُرْفًا﴿١﴾
قسم ہے اُن (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں
—فَٱلْعَـٰصِفَـٰتِ عَصْفًا﴿٢﴾
پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں
—وَٱلنَّـٰشِرَٰتِ نَشْرًا﴿٣﴾
اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلاتی ہیں
—فَٱلْفَـٰرِقَـٰتِ فَرْقًا﴿٤﴾
پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں
—فَٱلْمُلْقِيَـٰتِ ذِكْرًا﴿٥﴾
پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں
—عُذْرًا أَوْ نُذْرًا﴿٦﴾
عُذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر، 1
—إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌ﴿٧﴾
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے 1 وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ 2
—فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتْ﴿٨﴾
پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے، 1
—وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتْ﴿٩﴾
اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا، 1
—وَإِذَا ٱلْجِبَالُ نُسِفَتْ﴿١٠﴾
اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے
—وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتْ﴿١١﴾
اور رسُولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا 1 (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی)
—لِأَىِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ﴿١٢﴾
کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟
—لِيَوْمِ ٱلْفَصْلِ﴿١٣﴾
فیصلے کے روز کے لیے
—وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ﴿١٤﴾
اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿١٥﴾
تباہی ہے اُس دن جُھٹلانے والوں کے لیے۔ 1
—أَلَمْ نُهْلِكِ ٱلْأَوَّلِينَ﴿١٦﴾
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ 1
—ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ ٱلْـَٔاخِرِينَ﴿١٧﴾
پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ 1
—كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ﴿١٨﴾
مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿١٩﴾
تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 1
—أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ﴿٢٠﴾
کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا
—فَجَعَلْنَـٰهُ فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ﴿٢١﴾
اور ایک مقرر مدت تک1
—إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ﴿٢٢﴾
اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟
—فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ ٱلْقَـٰدِرُونَ﴿٢٣﴾
تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ 1
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٢٤﴾
تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 1
—أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا﴿٢٥﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا
—أَحْيَآءً وَأَمْوَٰتًا﴿٢٦﴾
زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی
—وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَـٰمِخَـٰتٍ وَأَسْقَيْنَـٰكُم مَّآءً فُرَاتًا﴿٢٧﴾
اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟ 1
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٢٨﴾
تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 1
—ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ﴿٢٩﴾
1 چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے
—ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ ظِلٍّ ذِى ثَلَـٰثِ شُعَبٍ﴿٣٠﴾
چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، 1
—لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِى مِنَ ٱللَّهَبِ﴿٣١﴾
نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا
—إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍ كَٱلْقَصْرِ﴿٣٢﴾
وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی
—كَأَنَّهُۥ جِمَـٰلَتٌ صُفْرٌ﴿٣٣﴾
(جو اُچھلتی ہوئی یُوں محسُوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں۔ 1
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٣٤﴾
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
—هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ﴿٣٥﴾
یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے
—وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ﴿٣٦﴾
اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں۔ 1
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٣٧﴾
تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے
—هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَـٰكُمْ وَٱلْأَوَّلِينَ﴿٣٨﴾
یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے
—فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ﴿٣٩﴾
اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو۔ 1
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٤٠﴾
تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے
—إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍ وَعُيُونٍ﴿٤١﴾
1 متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں
—وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ﴿٤٢﴾
اور جو پھل وہ چاہیں (اُن کے لیے حاضر ہیں)
—كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴿٤٣﴾
کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو
—إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ﴿٤٤﴾
ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٤٥﴾
تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔ 1
—كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ﴿٤٦﴾
1 کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن۔ 2 حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٤٧﴾
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
—وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ﴿٤٨﴾
جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جُھکو تو نہیں جُھکتے۔ 1
—وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ﴿٤٩﴾
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
—فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ﴿٥٠﴾
اب اِس (قرآن)کے بعد اورکونسا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟1
—