Abese
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ﴿١﴾
ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی
—أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ﴿٢﴾
اِس با ت پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔1
—وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ﴿٣﴾
تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے
—أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ﴿٤﴾
یا نصیحت پر دھیان دے، اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟
—أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ﴿٥﴾
جو شخص بے پروائی برتتا ہے
—فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ﴿٦﴾
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو
—وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ﴿٧﴾
حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
—وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ﴿٨﴾
اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے
—وَهُوَ يَخْشَىٰ﴿٩﴾
اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے
—فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ﴿١٠﴾
اس سے تم بے رُخی برتتے ہو۔ 1
—كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ﴿١١﴾
ہر گز نہیں، 1 یہ تو ایک نصیحت ہے، 2
—فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ﴿١٢﴾
جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے
—فِى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ﴿١٣﴾
یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں
—مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴿١٤﴾
بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، 1
—بِأَيْدِى سَفَرَةٍ﴿١٥﴾
معزّز اور نیک کاتبوں 1 کے
—كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ﴿١٦﴾
ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ 1
—قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ﴿١٧﴾
لعنت ہو 1 انسان پر، 2 کیسا سخت مُنکرِ حق ہے یہ۔ 3
—مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ﴿١٨﴾
کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟
—مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ﴿١٩﴾
نُطفہ کی ایک بُوند سے۔ 1 اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی، 2
—ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ﴿٢٠﴾
پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی، 1
—ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ﴿٢١﴾
پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ 1
—ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ﴿٢٢﴾
پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اُٹھا کھڑا کرے۔ 1
—كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ﴿٢٣﴾
ہر گز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا۔ 1
—فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ﴿٢٤﴾
پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے۔ 1
—أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّا﴿٢٥﴾
ہم نے خُوب پانی لُنڈھایا، 1
—ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّا﴿٢٦﴾
پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا، 1
—فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّا﴿٢٧﴾
پھر اُس کے اندر اگائے غلے
—وَعِنَبًا وَقَضْبًا﴿٢٨﴾
اور انگور اور ترکاریاں
—وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا﴿٢٩﴾
اور زیتون اور کھجوریں
—وَحَدَآئِقَ غُلْبًا﴿٣٠﴾
اور گھنے باغ
—وَفَـٰكِهَةً وَأَبًّا﴿٣١﴾
اور طرح طرح کے پھل، اور چارے
—مَّتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ﴿٣٢﴾
تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامانِ زیست کے طور پر۔ 1
—فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ﴿٣٣﴾
آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی 1
—يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ﴿٣٤﴾
اُس روز آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا
—وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ﴿٣٥﴾
اور اپنی ماں اور اپنے باپ
—وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ﴿٣٦﴾
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ 1
—لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴿٣٧﴾
ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔ 1
—وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ﴿٣٨﴾
کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے
—ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ﴿٣٩﴾
ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے
—وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ﴿٤٠﴾
اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی
—تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ﴿٤١﴾
اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی
—أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ﴿٤٢﴾
یہی کافر و فاجر لوگ ہوں گے
—