Rahmân
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلرَّحْمَـٰنُ﴿١﴾
رحمٰن نے
—عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ﴿٢﴾
اِس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ 1
—خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ﴿٣﴾
اُسی نے انسان کو پیدا کیا 1
—عَلَّمَهُ ٱلْبَيَانَ﴿٤﴾
اور اسے بولنا سکھایا۔ 1
—ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴿٥﴾
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں 1
—وَٱلنَّجْمُ وَٱلشَّجَرُ يَسْجُدَانِ﴿٦﴾
اور تارے 1 اور درخت سب سجدہ ریز ہیں۔ 2
—وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلْمِيزَانَ﴿٧﴾
آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ 1
—أَلَّا تَطْغَوْا۟ فِى ٱلْمِيزَانِ﴿٨﴾
اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو
—وَأَقِيمُوا۟ ٱلْوَزْنَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا۟ ٱلْمِيزَانَ﴿٩﴾
انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔ 1
—وَٱلْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ﴿١٠﴾
1 زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا۔ 2
—فِيهَا فَـٰكِهَةٌ وَٱلنَّخْلُ ذَاتُ ٱلْأَكْمَامِ﴿١١﴾
اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں
—وَٱلْحَبُّ ذُو ٱلْعَصْفِ وَٱلرَّيْحَانُ﴿١٢﴾
طرح طرح کے غلّے ہیں جن میں بُھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿١٣﴾
پس اے جِنّ وانس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں 1 کو جھٹلاؤ گے؟ 2
—خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِن صَلْصَـٰلٍ كَٱلْفَخَّارِ﴿١٤﴾
انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سُوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا 1
—وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ﴿١٥﴾
اور جِن کو آگ کی لَپٹ سے پیدا کیا۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿١٦﴾
پس اے جِنّ و اِنس ، تم اپنے رب کی کن کن عجائبِ قدرت 1 کو جھٹلاؤ گے؟
—رَبُّ ٱلْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ ٱلْمَغْرِبَيْنِ﴿١٧﴾
دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿١٨﴾
پس اے جِنّ و اِنس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں 1 کو جھٹلاؤ گے؟
—مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ﴿١٩﴾
دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں
—بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ﴿٢٠﴾
پھر بھی ان کے درمیا ن ایک پر دہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٢١﴾
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟
—يَخْرُجُ مِنْهُمَا ٱللُّؤْلُؤُ وَٱلْمَرْجَانُ﴿٢٢﴾
اِن سمندروں سے موتی اور مونگے 1 نکلتے ہیں۔ 2
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٢٣﴾
پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟ 1
—وَلَهُ ٱلْجَوَارِ ٱلْمُنشَـَٔاتُ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَـٰمِ﴿٢٤﴾
اور یہ جہاز اُسی کے ہیں 1 جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اُٹھے ہوئے ہیں
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٢٥﴾
پس اے جِنّ و اِنس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟ 1
—كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ﴿٢٦﴾
1 ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے
—وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَـٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ﴿٢٧﴾
اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٢٨﴾
پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟ 1
—يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ﴿٢٩﴾
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حا جتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٣٠﴾
پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کی کن کن صفاتِ حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟ 1
—سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ﴿٣١﴾
اے زمین کے بوجھو، 1 عنقریب ہم تم سے باز پُرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں، 2
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٣٢﴾
پھر دیکھ لیں گے کہ ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ 1
—يَـٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ إِنِ ٱسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَـٰنٍ﴿٣٣﴾
اے گروہ جِنّ و اِنس، اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لیے بڑا زور چاہیے۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٣٤﴾
اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
—يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ﴿٣٥﴾
(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں 1 چھوڑ دیا جائیگا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٣٦﴾
اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟
—فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَٱلدِّهَانِ﴿٣٧﴾
پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سُرخ ہو جائے گا؟ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٣٨﴾
اےجِنّ و اِنس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟ 1
—فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌ وَلَا جَآنٌّ﴿٣٩﴾
اُس روز کسی انسان اور کسی جِن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی، 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٤٠﴾
پھر(دیکھ لیاجائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ 1
—يُعْرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَـٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَٰصِى وَٱلْأَقْدَامِ﴿٤١﴾
مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٤٢﴾
اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
—هَـٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا ٱلْمُجْرِمُونَ﴿٤٣﴾
(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے
—يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ﴿٤٤﴾
اسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے۔ 1
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٤٥﴾
پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟ 1
—وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ﴿٤٦﴾
اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، 1 دو باغ ہیں۔ 2
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٤٧﴾
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟1
—ذَوَاتَآ أَفْنَانٍ﴿٤٨﴾
ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور
—فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴿٤٩﴾
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
—فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ﴿٥٠﴾
دونوں باغوں میں دو چشمے رواں
—