Kamer
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ﴿١﴾
قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ 1
—وَإِن يَرَوْا۟ ءَايَةً يُعْرِضُوا۟ وَيَقُولُوا۟ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴿٢﴾
مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ 1
—وَكَذَّبُوا۟ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿٣﴾
اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلادیا اور اپنی خواہشاتِ نفس ہی کی پیروی کی۔ 1 ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ 2
—وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّنَ ٱلْأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ﴿٤﴾
اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے
—حِكْمَةٌۢ بَـٰلِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ ٱلنُّذُرُ﴿٥﴾
اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں
—فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَىْءٍ نُّكُرٍ﴿٦﴾
پس اے نبیؐ ، اِن سے رُخ پھیر لو۔ 1 جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار 2 چیز کی طرف پکارے گا
—خُشَّعًا أَبْصَـٰرُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ﴿٧﴾
لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ 1 اپنی قبروں سے 2 اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹِڈیاں ہیں
—مُّهْطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِ ۖ يَقُولُ ٱلْكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ﴿٨﴾
پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے
—۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌ وَٱزْدُجِرَ﴿٩﴾
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے۔ 1 اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جِھڑکا گیا۔ 2
—فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَغْلُوبٌ فَٱنتَصِرْ﴿١٠﴾
آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"
—فَفَتَحْنَآ أَبْوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ﴿١١﴾
تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا، 1
—وَفَجَّرْنَا ٱلْأَرْضَ عُيُونًا فَٱلْتَقَى ٱلْمَآءُ عَلَىٰٓ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ﴿١٢﴾
اور یہ سارا پانی اُس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا
—وَحَمَلْنَـٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَٰحٍ وَدُسُرٍ﴿١٣﴾
اور نوح ؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی 1 پر سوار کر دیا
—تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ﴿١٤﴾
جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ 1
—وَلَقَد تَّرَكْنَـٰهَآ ءَايَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴿١٥﴾
اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دی 1 ا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟
—فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ﴿١٦﴾
دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
—وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴿١٧﴾
ہم نےاِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، 1 پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
—كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ﴿١٨﴾
عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
—إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِى يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ﴿١٩﴾
ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن 1 سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر اِس طرح پھینک رہی تھی
—تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ﴿٢٠﴾
جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں
—فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ﴿٢١﴾
پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
—وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴿٢٢﴾
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
—كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ﴿٢٣﴾
ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا
—فَقَالُوٓا۟ أَبَشَرًا مِّنَّا وَٰحِدًا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذًا لَّفِى ضَلَـٰلٍ وَسُعُرٍ﴿٢٤﴾
اور کہنے لگے”ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ 1 اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے
—أَءُلْقِىَ ٱلذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ﴿٢٥﴾
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"
—سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ ٱلْكَذَّابُ ٱلْأَشِرُ﴿٢٦﴾
(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) "کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے
—إِنَّا مُرْسِلُوا۟ ٱلنَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَٱرْتَقِبْهُمْ وَٱصْطَبِرْ﴿٢٧﴾
ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہے
—وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ ٱلْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴿٢٨﴾
اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اُونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔“ 1
—فَنَادَوْا۟ صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ﴿٢٩﴾
آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کا م کا بیڑا اُٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ 1
—فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ﴿٣٠﴾
پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
—إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَكَانُوا۟ كَهَشِيمِ ٱلْمُحْتَظِرِ﴿٣١﴾
ہم نےاُن پر بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بُھس ہو کر رہ گئے۔ 1
—وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴿٣٢﴾
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
—كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍۭ بِٱلنُّذُرِ﴿٣٣﴾
لوطؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا
—إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ ۖ نَّجَّيْنَـٰهُم بِسَحَرٍ﴿٣٤﴾
اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے
—نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَ﴿٣٥﴾
اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے
—وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا۟ بِٱلنُّذُرِ﴿٣٦﴾
لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے
—وَلَقَدْ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِۦ فَطَمَسْنَآ أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ﴿٣٧﴾
پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں مونددیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا۔ 1
—وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ﴿٣٨﴾
صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آ لیا
—فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ﴿٣٩﴾
چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا
—وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴿٤٠﴾
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
—وَلَقَدْ جَآءَ ءَالَ فِرْعَوْنَ ٱلنُّذُرُ﴿٤١﴾
اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں
—كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَـٰهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ﴿٤٢﴾
مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے
—أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُو۟لَـٰٓئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى ٱلزُّبُرِ﴿٤٣﴾
کیا تمہارے کُفّار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ 1 یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟
—أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ﴿٤٤﴾
یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟
—سَيُهْزَمُ ٱلْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ﴿٤٥﴾
عنقریب یہ جتّھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ 1
—بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَٱلسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ﴿٤٦﴾
بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے
—إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـٰلٍ وَسُعُرٍ﴿٤٧﴾
یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے
—يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا۟ مَسَّ سَقَرَ﴿٤٨﴾
جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا
—إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـٰهُ بِقَدَرٍ﴿٤٩﴾
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے، 1
—وَمَآ أَمْرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِٱلْبَصَرِ﴿٥٠﴾
اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ 1
—