Cin
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلْ أُوحِىَ إِلَىَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَقَالُوٓا۟ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا﴿١﴾
اے نبیؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا 1 پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا:”ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے 2
—يَهْدِىٓ إِلَى ٱلرُّشْدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدًا﴿٢﴾
راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“ 1
—وَأَنَّهُۥ تَعَـٰلَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا ٱتَّخَذَ صَـٰحِبَةً وَلَا وَلَدًا﴿٣﴾
اور یہ کہ”ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“ 1
—وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطًا﴿٤﴾
اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ 1 اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“
—وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا﴿٥﴾
اور یہ کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔“ 1
—وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ ٱلْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا﴿٦﴾
اور یہ کہ”انسانوں میں سے کچھ لوگ جِنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جِنّوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔“ 1
—وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا۟ كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ ٱللَّهُ أَحَدًا﴿٧﴾
اور یہ کہ”انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمھارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسُول بنا کر نہ بھیجے گا۔“ 1
—وَأَنَّا لَمَسْنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدْنَـٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا﴿٨﴾
اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"
—وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَـٰعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ ٱلْـَٔانَ يَجِدْ لَهُۥ شِهَابًا رَّصَدًا﴿٩﴾
اور یہ کہ”پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھُپے سُننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہابِ ثاقب لگا ہوا پاتا ہے۔“ 1
—وَأَنَّا لَا نَدْرِىٓ أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا﴿١٠﴾
اور یہ کہ”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی بُرا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا ربّ اُنہیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“ 1
—وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا﴿١١﴾
اور یہ کہ”ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فرو تر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔“ 1
—وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعْجِزَ ٱللَّهَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُۥ هَرَبًا﴿١٢﴾
اور یہ کہ”ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔“ 1
—وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا ٱلْهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦ ۖ فَمَن يُؤْمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا﴿١٣﴾
اور یہ کہ”ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سُنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے ربّ پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا۔“ 1
—وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًا﴿١٤﴾
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی
—وَأَمَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا﴿١٥﴾
جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنّم کا ایندھن بننے والے ہیں۔“ 1
—وَأَلَّوِ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَـٰهُم مَّآءً غَدَقًا﴿١٦﴾
1 اور (اے نبیؐ) کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے، 2
—لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِۦ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا﴿١٧﴾
تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں۔ 1 اور جو اپنے ربّ کے ذکر سے منہ موڑے گا 2 اس کا ربّ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا
—وَأَنَّ ٱلْمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًا﴿١٨﴾
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ 1
—وَأَنَّهُۥ لَمَّا قَامَ عَبْدُ ٱللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا۟ يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا﴿١٩﴾
اور یہ کہ جب اللہ بندہ 1 اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹُوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے
—قُلْ إِنَّمَآ أَدْعُوا۟ رَبِّى وَلَآ أُشْرِكُ بِهِۦٓ أَحَدًا﴿٢٠﴾
اے نبیؐ ، کہو کہ”میں تو اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔“ 1
—قُلْ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا﴿٢١﴾
کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"
—قُلْ إِنِّى لَن يُجِيرَنِى مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا﴿٢٢﴾
کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں
—إِلَّا بَلَـٰغًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِسَـٰلَـٰتِهِۦ ۚ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا﴿٢٣﴾
میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔ 1 اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنّم کی آگ ہے اور ویسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ 2
—حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوْا۟ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا﴿٢٤﴾
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔ 1
—قُلْ إِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُۥ رَبِّىٓ أَمَدًا﴿٢٥﴾
کہو”میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سےکیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے۔ 1
—عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِۦٓ أَحَدًا﴿٢٦﴾
وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلّع نہیں کرتا، 1
—إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُۥ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ رَصَدًا﴿٢٧﴾
سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، 1 تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ 2
—لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا۟ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًۢا﴿٢٨﴾
تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیے، 1 اور اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔“ 2
—